مودی کی صدارت میں نیتی آیوگ کا غیرمعمولی اجلاس، تمام 28 وزرائے اعلیٰ ایک میز پر جمع


مودی کی صدارت میں نیتی آیوگ کا غیرمعمولی اجلاس، تمام 28 وزرائے اعلیٰ ایک میز پر جمع

نئی دہلی — نریندر مودی کی صدارت میں منعقد ہونے والے نیتی آیوگ کے اجلاس میں ایک غیرمعمولی منظر دیکھنے میں آیا، جب ملک کی تمام 28 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔ بھارتی سیاسی حلقوں میں اسے وفاقی ہم آہنگی اور مرکز و ریاستوں کے درمیان تعاون کے ایک اہم مظہر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت کے نوجوانوں کے لیے سازگار ماحول کی تشکیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ معیاری تعلیم، صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتوں کی تربیت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے بغیر ترقی یافتہ بھارت کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

مودی نے کہا کہ نوجوان آبادی بھارت کی سب سے بڑی طاقت ہے اور اگر انہیں جدید تعلیم، فنی تربیت اور ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے جائیں تو ملک عالمی معیشت میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے خواتین کو ترقی کے مرکزی دھارے میں لانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ “خواتین کی قیادت میں ترقی” ان کے “ترقی یافتہ بھارت” کے وژن کا بنیادی ستون ہے۔ ان کے مطابق خواتین کی معاشی، سماجی اور سیاسی شمولیت ملک کی مجموعی ترقی کو تیز کر سکتی ہے۔

اجلاس میں ریاستی حکومتوں اور مرکزی قیادت کے درمیان ترقیاتی منصوبوں، روزگار، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور سماجی بہبود کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق تمام ریاستی وزرائے اعلیٰ کی ایک ہی اجلاس میں شرکت ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے، کیونکہ ماضی میں بعض اپوزیشن جماعتوں کے زیرِ انتظام ریاستیں ایسے اجلاسوں کا بائیکاٹ بھی کرتی رہی ہیں۔ اس وجہ سے اس اجلاس کو بھارتی وفاقی سیاست میں ایک اہم علامتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت اب اپنی توجہ نوجوانوں کی مہارت سازی، روزگار کے مواقع اور خواتین کی معاشی شمولیت پر مرکوز کر رہی ہے تاکہ آئندہ برسوں میں بھارت کی تیز رفتار معاشی ترقی کو برقرار رکھا جا سکے

قومی خبریں سے مزید