شی جن پنگ سے ملاقات میں اتحادِ چین کا ذکر ہی نہیں ہوا، تائیوانی اپوزیشن رہنما کا اہم انکشاف
واشنگٹن/تائی پے — تائیوان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کی رہنما چینگ لی وون نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ “اتحادِ چین” یا تائیوان کے چین میں انضمام کا موضوع زیرِ بحث ہی نہیں آیا۔
ایک انٹرویو میں چینگ لی وُن نے کہا کہ آبنائے تائیوان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ان کی ترجیح کشیدگی میں کمی، رابطوں کی بحالی اور مذاکرات کے ذریعے امن کے امکانات پیدا کرنا تھی۔ ان کے مطابق موجودہ حالات ایسے نہیں کہ دونوں فریق اتحاد یا انضمام جیسے انتہائی حساس مسئلے پر سنجیدہ بات چیت کر سکیں۔
انہوں نے کہا، “ہم چاہتے تھے کہ دونوں جانب دوبارہ مکالمہ اور مذاکرات شروع ہوں تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔ اس وقت ہمارے پاس اتحادِ چین کے مسئلے پر بات کرنے کے لیے مناسب حالات موجود نہیں ہیں۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تائیوان کو امریکہ سے تقریباً 14 ارب ڈالر کے مجوزہ اسلحہ پیکیج کی منظوری کا انتظار ہے۔ ساتھ ہی تائیوان میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ مستقبل میں واشنگٹن جزیرے کے دفاع کے لیے کس حد تک اپنی وابستگی برقرار رکھے گا۔
چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور طویل عرصے سے “دوبارہ اتحاد” کی پالیسی پر زور دیتا آیا ہے، جبکہ تائیوان میں بڑی تعداد خود کو ایک الگ سیاسی اور جمہوری نظام کا حامل سمجھتی ہے۔ اسی وجہ سے آبنائے تائیوان دنیا کے حساس ترین جغرافیائی و سیاسی تنازعات میں شمار ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چینگ لی وُن کا بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ حالات میں حتیٰ کہ وہ سیاسی قوتیں بھی، جو بیجنگ کے ساتھ نسبتاً بہتر تعلقات کی حامی سمجھی جاتی ہیں، فوری طور پر اتحادِ چین کے موضوع پر آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے نزدیک اس وقت ترجیح جنگ کے خطرے کو کم کرنا اور دونوں کناروں کے درمیان رابطے بحال کرنا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس ملاقات میں اتحادِ چین کا موضوع زیر بحث نہیں آیا، لیکن چین، تائیوان اور امریکہ کے درمیان جاری اسٹرٹیجک کشمکش آنے والے برسوں میں ایشیا ہی نہیں بلکہ عالمی سیاست کی سمت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے





