اب قیمت چکانی ہوگی”: ٹرمپ کا ایران کو سخت انتباہ، خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی
واشنگٹن / تہران — امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے کے بعد خطے میں کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے معاہدے پر بات چیت میں “بہت تاخیر” کی ہے اور اب اسے اس کی “قیمت چکانی ہوگی”۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سنجیدہ مذاکرات میں مسلسل تاخیر کرتا رہا، جس کے بعد صورتحال اس نہج پر پہنچی۔
دوسری جانب Iran نے الزام لگایا ہے کہ امریکی افواج نے اس سے قبل آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے حملے اردن، بحرین اور کویت میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔
یہ جھڑپیں اس وقت مزید شدت اختیار کر گئیں جب امریکی ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے تصادم کی طرف اشارہ کر رہی ہے، اور اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے





