وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا نیشنل ایکنامک کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو
سہیل آفریدی نے کہا ہے نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کے عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا گیا
وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ 180 دن کے اندر این ایف سی ایوارڈ کو اپڈیٹ کرنے کے لیے باقاعدہ اجلاس منعقد ہوں گے، وزیراعلی نے کہا ہے
اگر 180 دن میں اتفاق رائے نہ ہوا تو صدر مملکت کو سمری بھیج کر صدارتی آرڈر کے ذریعے این ایف سی اپڈیٹ کیا جائے گا، کے پی کے وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہا ہے
نئے این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کا مالی حصہ شامل کیا جائے گا، یہ خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے خوشخبری ہے، انہوں نے کہا ہے
اے آئی پی میں مجوزہ کٹوتی مذاکرات کے بعد کافی حد تک بہتر ہوئی ہے، مزید بہتری کے لیے بھی مطالبہ کیا ہے، سہیل آفریدی جنہیں عمران خان نے سابق وزیراعلی کے پی امین گنڈہ پور پر کارکنان اور پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ سے مل جانے کے الزام کے بعد برطرف کرنے کے بعد وزیراعلی بنایا تھا اور اب کارکنان کی جانب سے ان پر بھی یہی الزام لگایا جارہا ہے نے کہا ہے
ہمیں امید ہے کہ ضم شدہ اضلاع کی اے ڈی پی اور اے آئی پی کے حصے میں مزید بہتری آئے گی، وزیراعلی نے کہا ہے
سیاسی معاملات پر وزیراعظم کے ساتھ بات چیت جاری ہے، جلد مثبت پیش رفت عوام کے سامنے آئے گی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے
آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت اشیائے ضروریہ کی آزادانہ نقل و حمل یقینی بنانا وفاق کی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا ہے
اگر آرٹیکل 151 پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا تو اسے ختم کر کے صوبوں کو اپنی پالیسی اختیار کرنے کی اجازت دی جائے، وزیراعلی نے کہا ہے
پاسکو کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت ایک لاکھ پچھتر ہزار ٹن گندم مقررہ نرخ پر خیبر پختونخوا کو فراہم کی جائے گی، وزیراعلی کے پی نے کہا ہے
وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ گندم کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، سہیل آفریدی نے کہا ہے
خیبر پختونخوا حکومت ملک بھر میں امن و امان کے لیے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے، وزیراعلیٰ نے زور دیکر کہا ہے
5 اکتوبر 2025 سے اب تک پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے پر 30 ارب روپے سے زائد خرچ کیے گئے ہیں،





