“آگ کے شعلوں سے زندگی کے آخری لمحے تک: بروکلین میں ریسکیو کے دوران لرزہ خیز حادثہ، 53 سالہ اشتیاق/عاشق حسین جان سے ہاتھ دھو بیٹھے”

بروکلین، نیویارک: امریکی ریاست نیویارک کے علاقے سن سیٹ پارک، بروکلین میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جس میں ایک 53 سالہ شخص آگ سے بچنے کی کوشش کے دوران ریسکیو آپریشن کے موقع پر جان کی بازی ہار گیا۔

متعدد معتبر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ شخص، جنہیں مختلف ذرائع میں عاشق حسین کے نام سے شناخت کیا گیا ہے، ایک رہائشی عمارت میں لگنے والی آگ کے دوران کھڑکی سے باہر نکل کر فائر ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھی کے ذریعے محفوظ مقام تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

یہ واقعہ اُس وقت خوفناک رخ اختیار کر گیا جب فائر ڈیپارٹمنٹ کی ریسکیو سیڑھی (لیڈر) اچانک اپنی جگہ سے ہل گئی یا اندر کی جانب سمٹ گئی، اور وہ لمحوں میں نیچے زمین پر آ گرے۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ منظر انتہائی تیز اور خوفناک تھا، جیسے چند سیکنڈ میں امید ایک المیے میں بدل گئی ہو۔

عینی ویڈیوز اور رپورٹس کے مطابق متاثرہ شخص پہلے عمارت کی کھڑکی سے باہر آئے اور جیسے ہی انہوں نے سیڑھی پر قدم رکھا، اسی لمحے سیڑھی غیر متوقع طور پر پیچھے ہٹ گئی۔ وہ پہلے عمارت کے نیچے لگے شیڈ یا آؤٹ کینوپی پر گرے اور پھر زمین پر جا گرے۔

انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم شدید چوٹوں کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکے۔

امریکی فائر ڈیپارٹمنٹ ایف ڈی این وائی نے واقعے کے فوراً بعد تحقیقات شروع کر دی ہیں اور متعلقہ ریسکیو آلات کو عارضی طور پر سروس سے ہٹا دیا گیا ہے تاکہ حادثے کی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔

تجزیہ

یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ شہری ریسکیو سسٹم پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک طرف آگ سے بچنے کی کوشش کرنے والا شخص زندگی کی آخری امید کے ساتھ سیڑھی پر قدم رکھ رہا تھا، اور دوسری طرف چند لمحوں میں وہی سیڑھی اس کی زندگی کا آخری ذریعہ ثابت ہوئی۔

یہ سانحہ نہ صرف فائر سیفٹی اور ریسکیو آلات کی تکنیکی جانچ پڑتال پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ شہری ہنگامی حالات میں ایک چھوٹی سی تکنیکی خرابی بھی انسانی زندگی کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔

متاثرہ شخص کو کمیونٹی میں ایک محنتی، خاندانی ذمہ دار اور روزگار کے لیے جدوجہد کرنے والے فرد کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے اہل خانہ اس صدمے سے شدید متاثر ہیں

قومی خبریں سے مزید