تائی چونگ، تائیوان: تائیوان نے چین کے بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کے درمیان ایک اہم فوجی مشق میں امریکی ساختہ ایم 142 ہائیمارس راکٹ لانچر سسٹم سے راکٹ فائر کر کے اپنی دفاعی تیاریوں کا مظاہرہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز ہونے والی اس مشق میں پہلی بار ہائیمارس کے راکٹ آبنائے تائیوان کے پانیوں کی جانب داغے گئے۔ یہ آبنائے تائیوان اور چین کے درمیان واقع حساس سمندری راستہ ہے، جو دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کا مرکزی نقطہ سمجھا جاتا ہے۔
تائیوانی فوج کے مطابق مشق میں کم فاصلے تک جانے والے تربیتی راکٹ استعمال کیے گئے، جو ساحل سے زیادہ دور نہیں گئے اور سمندر میں گر گئے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد کسی حملے کی صورت میں فوری نقل و حرکت کے ساتھ جوابی کارروائی کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔
تائیوانی فوج کے سارجنٹ وانگ منگ ہوئی نے کہا کہ موجودہ خطرات کے پیش نظر ہائیمارس کی تربیت جاری رکھی جائے گی اور ملک کے دفاع کے لیے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
یہ مشق ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بیجنگ تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کا عندیہ بھی دیتا رہا ہے۔ دوسری جانب تائیوان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہ سے جدید ہتھیار حاصل کر رہا ہے۔
ہائیمارس سسٹم نے حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر خاص شہرت حاصل کی ہے کیونکہ یہ تیزی سے ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہو کر راکٹ فائر کر سکتا ہے، جس سے دشمن کے لیے اسے نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔
فوجی ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ صرف ایک تربیتی مشق تھی، لیکن اس کا سیاسی اور عسکری پیغام واضح ہے: تائیوان چین کے ممکنہ فوجی دباؤ یا حملے کے مقابلے کے لیے اپنی تیاریوں کا عملی مظاہرہ کر رہا ہے۔ اس پیش رفت سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے





