دبئی / ریاض / ابوظہبی: خلیجی ریاستیں اب صرف تیل اور گیس کی معیشت تک محدود نہیں رہنا چاہتیں بلکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو مستقبل کی سب سے بڑی سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے اربوں ڈالر اس شعبے میں جھونک رہی ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک عالمی اے آئی انقلاب میں مرکزی کردار حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تقریباً ایک دہائی قبل خلیجی خودمختار فنڈز کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے روایتی سرمایہ کاری کے بجائے سیلیکون ویلی کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ لگانا شروع کیا۔ ناقدین کا مؤقف تھا کہ انفراسٹرکچر، جائیداد اور پبلک ایکویٹیز کے مقابلے میں یہ سرمایہ کاریاں زیادہ خطرناک تھیں۔
یہ خدشات اس وقت درست بھی ثابت ہوئے جب سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور ابوظہبی کی مبادلہ انویسٹمنٹ کمپنی نے 2017 میں سافٹ بینک گروپ کے 93 ارب ڈالر کے وژن فنڈ میں بڑی سرمایہ کاری کی۔ اس فنڈ کو بعد ازاں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں نمایاں مثال دفتر فراہم کرنے والی کمپنی وی ورک کی مالی تباہی تھی، جس نے دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر قرضوں کی تنظیمِ نو کی۔
تاہم اب خلیجی ممالک کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت محض ایک عارضی رجحان نہیں بلکہ آئندہ دہائیوں کی اقتصادی طاقت کا مرکز بننے جا رہی ہے۔ اسی لیے وہ ڈیٹا سینٹرز، اے آئی چپس، کلاؤڈ انفراسٹرکچر، تحقیق اور عالمی ٹیک کمپنیوں میں سرمایہ کاری کو اپنی طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ بنا رہے ہیں۔
تجزیہ
خلیجی ریاستوں کے لیے اے آئی میں سرمایہ کاری صرف مالی منافع کا معاملہ نہیں بلکہ “تیل کے بعد کی معیشت” کی تیاری بھی ہے۔ سعودی عرب کے وژن 2030 اور متحدہ عرب امارات کی ڈیجیٹل حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ خطے کو عالمی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا مرکز بنایا جائے۔
اگر یہ حکمت عملی کامیاب ہوتی ہے تو خلیجی ممالک نہ صرف سرمایہ کار بلکہ اے آئی انفراسٹرکچر، ڈیٹا اور کمپیوٹنگ طاقت کے عالمی مراکز میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ماضی کے تجربات، خصوصاً وی ورک اور بعض دیگر ناکام ٹیک سرمایہ کاریوں کو دیکھتے ہوئے یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ آیا اربوں ڈالر کی یہ نئی شرط خلیجی معیشتوں کے لیے سنہری موقع ثابت ہوگی یا ایک اور مہنگا تجربہ





