تین دن کی جھڑپوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی: امریکہ اور ایران ایک اور بڑی جنگ کے دہانے پر؟”

واشنگٹن / تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ تین روز کے دوران ہونے والی فوجی جھڑپوں اور جوابی کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے اور خطرناک مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک بظاہر مکمل جنگ سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن مسلسل بڑھتی کشیدگی کسی بھی وقت صورتحال کو قابو سے باہر لے جا سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہا تو اسے “قیمت چکانا پڑے گی”۔ دوسری جانب ایران بھی امریکی دباؤ اور فوجی کارروائیوں کا جواب دینے کے لیے اپنے ردعمل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں دونوں فریق ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ ایران پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے جبکہ ایران یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ امریکی اقدامات کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم یہی حکمت عملی سب سے بڑا خطرہ بھی بن رہی ہے، کیونکہ کسی غلط اندازے، حادثاتی تصادم یا “سرخ لکیر” عبور ہونے کی صورت میں محدود جھڑپیں مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید بے یقینی کا شکار ہے، جبکہ آبنائے ہرمز، خلیجی ریاستوں اور امریکی فوجی اڈوں کے گرد بڑھتی سرگرمیاں عالمی منڈیوں اور توانائی کی سپلائی کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔

تجزیہ

گزشتہ چند برسوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان متعدد بار کشیدگی بڑھی، مگر حالیہ واقعات اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ دونوں ممالک اب براہِ راست ایک دوسرے کو پیغام دے رہے ہیں اور جوابی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ بظاہر دونوں فریق جنگ نہیں چاہتے، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ بعض اوقات جنگیں منصوبہ بندی سے نہیں بلکہ غلط فہمیوں، غلط اندازوں اور اچانک فیصلوں کے نتیجے میں شروع ہوتی ہیں۔

اگر موجودہ کشیدگی کا سفارتی حل نہ نکالا گیا تو مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتا ہے جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید