امریکا کے ایران پر حملے، خام امن دعوے اور عالمی مارکیٹ میں ہلچل — تیل، جنگ اور ٹیکنالوجی ایک ہی وقت میں ٹکرا گئے”

امریکا کے ایران پر حملے، خام امن دعوے اور عالمی مارکیٹ میں ہلچل — تیل، جنگ اور ٹیکنالوجی ایک ہی وقت میں ٹکرا گئے”

سنگاپور / واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکہ نے ایران پر حملے کیے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کو بھی شدید دھچکا لگا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی اس واقعے کے بعد کی گئی جب ایران نے ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ “چند دنوں” میں ممکن ہے، لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔

اسی دوران عالمی توانائی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔ امریکی توانائی سیکریٹری کے مطابق آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت عالمی سپلائی چین کے لیے اہم اشارہ ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی سپلائی کا ایک مرکزی راستہ ہے۔

دوسری جانب عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں بھی بڑی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اسپیس ایکس نے اپنے ممکنہ آئی پی او کی قیمت 135 ڈالر فی شیئر مقرر کر دی ہے، جبکہ AI کمپنی Anthropic نے اپنے پریمیم صارفین کے لیے ایک نیا جدید ماڈل متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایک ہی وقت میں جنگ، توانائی بحران اور ٹیکنالوجی کی بڑی پیش رفتیں عالمی منڈیوں کو ایک غیر معمولی دور میں داخل کر رہی ہیں، جہاں سیاسی فیصلے اور مارکیٹ ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے ایک دوسرے کو متاثر کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو نہ صرف تیل کی قیمتیں متاثر ہوں گی بلکہ عالمی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی مارکیٹ اور جغرافیائی سیاست بھی ایک نئے عدم استحکام کے دور میں داخل ہو سکتی

قومی خبریں سے مزید