کشمیر ایکشن کمیٹی کا لانگ مارچ، خاتون وکیل اور ڈاکٹر سمیت متعدد ہلاکریاست حکومت چھُپی پھر رہی ہے

آزاد کشمیر میں کشمیر ایکشن کمیٹی کی لانگ مارچ کال پر کشمیری عوام کی اکثریت ریاست کی ہر تنبیہ اور دھمکی کو نظر انداز کرکے باہر نکل آئ ہے ، تاہم پلندری اور کوٹلی میں احتجاجی مظاہرین جو راولا کوٹ جانے والے راستے پر ہزاروں کی تعداد میں ریاستی ظلم و بربریت کے خلاف نعرہ بازی کرتے آگے بڑھ رہے تھے پاکستان سے گئی رینجرز نے انہیں روکنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں علاقے کی سڑکیں میدان کار زار میں تبدیل ہو گئیں ،اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک خاتون وکیل اور ایک نوجوان ڈاکٹر سمیت متعدد افراد کے مارے جانے کے دعوے کیے جارہے ہیں، علاقے سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کشمیر میں نیٹ سروس کے ساتھ فون سروس بھی بند کردی گئی ہے اور بعض علاقوں میں کرفیو نفاذ کے باوجود عوام احتجاجی ریلیوں میں شرکت کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں ، احتجاجی لانگ مارچ جو کشمیر اسمبلی میں پاکستان میں کشمیری مہاجرین کی بارہ نشستوں کے خاتمے کے مطالبے ساتھ شروع کیا گیا ہے جس پر کشمیر حکومت اور کشمیری سپریم کورٹ کا موقف ہے یہ ایک آئینی مسئلہ ہے اور اسے اسمبلی میں ہی بیٹھ کر حل کیا جاسکتا ہے جبکہ کشمیر ایکشن کمیٹی جسے چند دن پہلے حکومت نے بھارتی دھشت گرد ایجنٹ قرار دیکر کالعدم قرار دیدیا ہے اس کا کہنا ہے اگر صدر کشمیر چاہے تو وہ ایک ایگزیکٹو آڈر کے ذریعے ان نشستوں کو یک جنبش قلم ختم کرسکتا ہے ، کشمیری حلقوں کے دانشوروں کا کہنا ہے مہاجرین کے نام پر مختص بارہ نشستیں در اصل پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے ان افراد کو دی جاتی ہیں جو کشمیر اسمبلی میں انکے اشارے پر ناچتے ہیں اور حکومت بنانے گرانے میں استعمال ہوتے ہیں اسطرح کشمیری حکومت کے ساتھ اپوزیشن پارٹی کو بھی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کنٹرول کرتی ہے، یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں یورپ امریکہ میں وہ کشمیری تنظیمیں جو کبھی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر مسئلہ کشمیر کے تناظر میں بھارتی سفارت خانوں کے باہر احتجاج کرتی تھیں کشمیر ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے اور کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نشستیں ختم نہ کرنے کے فیصلے کے خلاف پاکستانی سفارت و قونصلیٹ کے باہر مظاہرے کرتے ہوئے پاکستان اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نعرہ بازی کررہی ہیں ، یہاں یہ امر بھی ہرگز دلچسپی سے خالی نہیں پاکستانی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا جس پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا مکمل کنٹرول ہے کشمیر ایکشن کمیٹی کے اراکین و عہدیداروں کو بھارتی دھشت گرد غدار کشمیری قرار دینے میں مصروف ہے وہیں پاکستان میں تحریک انصاف کے کارکنوں ہمدردوں کی ایک بڑی اکثریت اور اس کے ویلاگرز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس مکمل طور پر کشمیر ایکشن کمیٹی کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے ہیں، اور جو کشمیری عوام کے جذبات پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بھڑکاتے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اور تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہی کشمیر کی تازہ ترین صورت حال کو دنیا بھر میں دکھایا پھیلایا جارہا ہے، کہا جارہا ہے کشمیر ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں آئندہ ھفتے کے بعد منعقد ہونے والے اسمبلی کے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی حکمت عملی کے تحت لانگ مارچ لیکر نکلی ہے ، لانگ مارچ میں پہلے ہی روز عوام کی اکثریت کی شرکت اور سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے متعدد ہلااکتوں کے بعد کشمیری دانشوروں کے ساتھ سیاسی حلقوں کی بھی یہی رائے ہے موجود حالات میں انتخابات مذید خونریزی کا باعث بنیں گے

قومی خبریں سے مزید