امریکا میں ریپبلکنز کے لیے خطرے کی گھنٹی، متنازع مگر مقبول امیدوار سینیٹ کی دوڑ میں آگے نکل آیا
واشنگٹن: امریکی ریاست مین میں ڈیموکریٹک پارٹی نے سیاسی تنازعات کے باوجود سیاسی نووارد گراہم پلیٹنر کو سینیٹ کے انتخاب کے لیے اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے، جو اب تین دہائیوں سے سینیٹ کی نشست پر قابض ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کو چیلنج کریں گے۔
41 سالہ گراہم پلیٹنر سابق میرین جنگی اہلکار اور سیپ فارمر ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امیروں پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے اور متوسط طبقے کو ریلیف دینے کا نعرہ بلند کیا، جس نے انہیں ڈیموکریٹک ووٹروں میں مقبول بنا دیا۔
ابتدائی نتائج کے مطابق پلیٹنر نے تقریباً 75 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ سابق گورنر جینیٹ ملز صرف 18.6 فیصد ووٹ لے سکیں۔ ملز نے اپریل میں اپنی انتخابی مہم معطل کر دی تھی کیونکہ پلیٹنر چندہ جمع کرنے اور عوامی حمایت میں ان سے بہت آگے نکل چکے تھے۔
73 سالہ سوزن کولنز امریکی سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی ان چند شخصیات میں شامل ہیں جو ایسی ریاست کی نمائندگی کرتی ہیں جہاں گزشتہ صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹس کامیاب ہوئے تھے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مین کی یہ نشست 2026 کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کے لیے ریپبلکنز سے سینیٹ کی نشست چھیننے کا ایک اہم موقع سمجھی جا رہی ہے۔
اب تمام نظریں پلیٹنر اور کولنز کے درمیان ہونے والے سخت مقابلے پر مرکوز ہیں، جسے امریکی سینیٹ کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن معرکوں میں شمار کیا جا رہا ہے





