بھارت اور امریکہ تجارتی معاہدے کھٹائی میں،واشنگٹن کی تحقیقات مکمل ہونے تک فیصلہ مؤخر
بھارت اور امریکہ کے درمیان زیرِ مذاکرات دوطرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کا عمل ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکہ اپنی “سیکشن 301” تحقیقات مکمل نہیں کر لیتا۔
بھارتی تجارتی عہدیدار نے پیر کے روز بتایا کہ واشنگٹن کی جانب سے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے حوالے سے جاری تحقیقات کے اختتام کے بعد ہی دونوں ممالک مجوزہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے سکیں گے۔
سیکشن 301 امریکی تجارتی قانون کی ایک شق ہے جس کے تحت امریکہ ان ممالک کے خلاف تحقیقات کرتا ہے جن پر امریکی کاروبار یا برآمدات کے لیے غیر منصفانہ تجارتی رکاوٹیں کھڑی کرنے کا الزام ہو۔ اس وقت بھارت سمیت متعدد ممالک کے تجارتی اقدامات امریکی جانچ کے دائرے میں ہیں۔
بھارت اور امریکہ گزشتہ کئی ماہ سے ایک جامع تجارتی معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور منڈیوں تک رسائی کو مزید فروغ دینا ہے۔ تاہم امریکی تحقیقات کے باعث معاہدے کے بعض اہم نکات پر پیش رفت سست پڑ گئی ہے۔
تجزیہ
دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ نہ صرف اربوں ڈالر کی تجارت کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ خطے میں معاشی اور جغرافیائی سیاسی توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اگر سیکشن 301 کی تحقیقات بھارت کے حق میں جاتی ہیں تو معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، لیکن کسی منفی نتیجے کی صورت میں مذاکرات مزید پیچیدہ ہونے کا امکان موجود ہے





