ممتا بنرجی کو بڑا جھٹکا! ترنمول کانگریس کے 20 ارکانِ پارلیمان نے بغاوت کا علم بلند کر دیا

ممتا بنرجی کو بڑا جھٹکا! ترنمول کانگریس کے 20 ارکانِ پارلیمان نے بغاوت کا علم بلند کر دیا

بھارت کی سیاست میں ایک بڑی ہلچل اس وقت پیدا ہو گئی جب مغربی بنگال کی حکمران جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے 20 ارکانِ پارلیمان کی جانب سے حکمراں اتحاد این ڈی اے کی حمایت اور پارٹی کے اندر الگ دھڑا بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹی ایم سی کے 29 رکنی پارلیمانی گروپ میں سے 20 ارکان نے نئی دہلی میں مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ارکان نے لوک سبھا اسپیکر کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے جس میں پارلیمنٹ کے اندر الگ بلاک بنانے اور این ڈی اے حکومت کی حمایت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق باراسات سے رکن پارلیمان کاکولی گھوش دستیدار اس ممکنہ باغی گروپ کی قیادت کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ گروپ باضابطہ طور پر الگ ہو جاتا ہے تو یہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کی جماعت کے لیے گزشتہ کئی برسوں کا سب سے بڑا سیاسی بحران ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ترنمول کانگریس کی مرکزی قیادت نے ابھی تک ان دعوؤں پر تفصیلی ردعمل نہیں دیا، تاہم پارٹی کے اندر بے چینی اور اختلافات کی خبروں نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

تجزیہ

اگر ٹی ایم سی کے دو تہائی سے زائد ارکانِ پارلیمان واقعی الگ دھڑا بنا لیتے ہیں تو اس سے نہ صرف ممتا بنرجی کی پارلیمانی طاقت متاثر ہوگی بلکہ اپوزیشن اتحاد “انڈیا” بلاک کو بھی شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ یہ پیش رفت مغربی بنگال کی سیاست کے ساتھ ساتھ قومی سیاسی منظرنامے میں بھی اہم تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

نوٹ: یہ اطلاعات بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس اور باغی دھڑے کے دعوؤں پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی مکمل آئینی اور پارلیمانی حیثیت متعلقہ اداروں کی تصدیق اور آئندہ پیش رفت کے بعد ہی واضح ہوگی

قومی خبریں سے مزید