امریکہ کی رہائشی مارکیٹ میں ہلچل: تین بڑے خطوں میں شدید گراوٹ، مگر ایک شہر کی قیمتیں 18 فیصد بڑھ کر سب کو حیران کر گئیں

امریکہ کی رہائشی مارکیٹ اس وقت واضح طور پر دو مختلف سمتوں میں تقسیم ہو چکی ہے جہاں ایک طرف ملک کے بڑے حصوں میں گھروں کی قیمتوں اور فروخت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف مغربی خطے کے کچھ بڑے اور معاشی طور پر مضبوط شہروں میں قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جنوب میں فلوریڈا کے میامی اور اورلینڈو میں قیمتیں بلند شرحِ سود اور زیادہ تعمیرات کے باعث دباؤ میں آ کر تقریباً پانچ سے دس فیصد تک کم ہو رہی ہیں جبکہ ٹیکساس کے ہیوسٹن، ڈیلس اور سین اینٹونیو میں بھی مارکیٹ سست روی کا شکار ہے اور وہاں قیمتیں اوسطاً آٹھ سے بارہ فیصد تک نیچے آئی ہیں کیونکہ نئے گھروں کی سپلائی زیادہ اور خریدار نسبتاً کم ہیں، اسی طرح شمال مشرقی خطے میں نیویارک، نیو جرسی کے نیوارک اور نیوآرک جیسے علاقوں میں بھی مہنگائی اور کم استطاعت کے باعث مارکیٹ میں تقریباً پانچ سے آٹھ فیصد کمی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ وسطی خطے یعنی الی نوائے کے شکاگو، مشی گن کے ڈیٹرائٹ اور اوہائیو کے کلیولینڈ میں سب سے زیادہ دباؤ دیکھا جا رہا ہے جہاں قیمتیں تقریباً پندرہ سے پچیس فیصد تک کم ہو گئی ہیں کیونکہ آبادی میں کمی اور صنعتی سرگرمیوں کی سست روی نے طلب کو متاثر کیا ہے، اس کے برعکس مغربی خطے میں صورتحال بالکل مختلف ہے جہاں مجموعی طور پر تقریباً اٹھارہ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ اضافہ خاص طور پر ٹیکنالوجی اور ہجرت سے جڑے بڑے شہروں میں نمایاں ہے جن میں سیئٹل، سان فرانسسکو بے ایریا، لاس اینجلس، سان ڈیاگو اور فینکس شامل ہیں جہاں مضبوط روزگار، مصنوعی ذہانت اور ٹیک انڈسٹری کی توسیع، اور محدود ہاؤسنگ سپلائی نے قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے، خاص طور پر سیئٹل اور سان فرانسسکو میں ٹیک ملازمتوں کی واپسی اور سرمایہ کاری کے باعث طلب میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ فینکس اور لاس اینجلس میں نسبتاً سستی رہائش کی تلاش میں آنے والی نئی آبادی نے مارکیٹ کو مزید گرم کر دیا ہے، اس طرح مجموعی طور پر امریکی ہاؤسنگ مارکیٹ ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں کمزور معاشی اور کم طلب والے علاقے نیچے جا رہے ہیں جبکہ ٹیک اور روزگار سے بھرپور مغربی شہر مسلسل مہنگے ہوتے جا رہے ہیں اور یہ فرق مستقبل میں مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کر رہا ہے

قومی خبریں سے مزید