“ڈالر کی طاقت کا نیا طوفان: امریکی شرحِ سود میں اضافے کی امیدوں نے عالمی کرنسیوں کو ہلا دیا، ین مداخلت کی حد پر پہنچ گیا

امریکی ڈالر عالمی کرنسی مارکیٹ میں دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا ہے، کیونکہ مضبوط امریکی روزگار کے اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں کو یہ توقع دینے پر مجبور کیا ہے کہ فیڈرل ریزرو جلد شرحِ سود میں اضافہ کر سکتا ہ
رپورٹ کے مطابق امریکہ میں گزشتہ ماہ نان فارم پے رولز میں 172,000 نئی ملازمتوں کا اضافہ ہوا، جو ماہرین کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ اس مضبوط معاشی ڈیٹا کے بعد تاجروں نے دسمبر میں شرحِ سود میں اضافے کے امکانات کو 70 فیصد سے بھی زیادہ قیمت دینا شروع کر دی ہے۔

ڈالر کی مضبوطی کے باعث دیگر بڑی کرنسیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے:

  • یورو، آسٹریلین ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئے۔
  • *جاپانی ین مزید کمزور ہو کر مداخلت (انٹروینشن) کے خطرناک زون میں داخل ہو گیا۔
  • مارکیٹ میں حکومتی “زبانی مداخلت” (جابوننگ) کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

کرنسی مارکیٹ کی یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی ہلچل جاری ہے۔ خاص طور پر ایشیا میں ٹیکنالوجی شیئرز میں بڑی فروخت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید متاثر کیا ہے، جس سے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کی طلب بڑھ گئی ہے۔
اب تمام توجہ امریکی مرکزی بینک Federal Reserve کی آئندہ پالیسی پر مرکوز ہے۔ اگر شرحِ سود میں اضافہ ہوتا ہے تو نہ صرف ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے بلکہ عالمی مارکیٹوں میں سرمایہ کا بہاؤ بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔
ڈالر کی موجودہ ریلی اس بات کی علامت ہے کہ عالمی معیشت اب بھی امریکی معاشی ڈیٹا اور فیڈ کی پالیسی پر انتہائی حساس ہے۔ مضبوط روزگار کے اعداد و شمار ایک طرف امریکی معیشت کی لچک دکھاتے ہیں، لیکن دوسری طرف دنیا بھر کی ابھرتی ہوئی معیشتوں اور کرنسیوں کے لیے دباؤ کا باعث بھی بنتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید