آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں کے دوران کشیدگی کی صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے جب مختلف غیر مصدقہ رپورٹس اور مقامی ذرائع کے مطابق راولاکوٹ اور بعض دیگر علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور احتجاجی گروہوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران جانی نقصان اور گرفتاریوں کے واقعات سامنے آئے ہیں تاہم حکام کی جانب سے بعض تفصیلات کی باضابطہ تصدیق ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آئی، اطلاعات کے مطابق کچھ سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد افراد کی گرفتاریوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ حالیہ کارروائیاں قانون نافذ کرنے اور مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کی گئی ہیں اور ان کے مطابق بعض زیرِ حراست افراد سے اسلحہ اور دیگر مشکوک مواد برآمد ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، دوسری جانب سیاسی اور عوامی حلقوں کی ایک بڑی تعداد ان کارروائیوں کو سیاسی دباؤ اور احتجاجی آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دے رہی ہے اور یہ مؤقف بھی سامنے آ رہا ہے کہ ایکشن کمیٹی سے منسلک افراد کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم کالعدم کشمیر ایکشن کمیٹی جس کے اکثر رہنما گرفتار کرلیے گئے ہیں یا مفرور ہیں انکی نو جون کو دی گئی احتجاجی کال پر اگر کشمیری عوام باہر نکل آئے تو ریاست کا اصل امتحان شروع ہوگا ، ملک کے نامور تجزیہ نگار کہتے ہیں ، سویلین سپیس بھٹو نے سمجھا تھا بہت حاصل کرلی ہے مگر تھی نہیں
بھٹو لٹک گیا پھر بینظیر بھٹو نے بہت صبر استقامت کیساتھ سسٹم کیساتھ چلنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر سسٹم نے اس غریب کو بھی برداشت نہیں کیا
پھر نواز نے بار بار سسٹم کو چکمہ دینے کی کوشش کی مگر سپیس بڑھنے کی جگہ کم ہی ہوتی گئی
پھر عمران خان کو سسٹم نے پالا عمران خان سمجھا سسٹم میرا محتاج ہے آج اڈیالہ جیل میں زخم چاٹ رہا ہے۔
سول بالادستی کا گمان اس ملک میں احمقانہ ہی ہے یہ بات سیاستدانوں اور سورماؤں سب کو سمجھ لینی چاہئے، اس لیئے خیال کیا جاتا ہے کشمیر ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا حشر بھی وہی ہوگا جو اس ریاست میں سوال کرنے اور حقوق مانگنے والوں کا ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے ، اسی دوران آزاد کشمیر کی سپریم عدلیہ کی جانب سے مہاجرین کی نشستوں سے متعلق ایک معاملے پر ریاستی نظریے کے عین مطابق یہ رائے سامنے آئی ہے کہ اس نوعیت کے آئینی و انتخابی تنازعات کو پارلیمانی اور قانونی دائرہ کار میں حل کیا جانا چاہیے اور سڑکوں پر تصادم کی صورت اختیار نہیں کرنی چاہیے، مجموعی طور پر خطے میں سیاسی بے چینی، سیکیورٹی خدشات اور انتظامی اقدامات کے حوالے سے بحث شدت اختیار کر گئی ہے جبکہ مختلف سیاسی جماعتیں اور تجزیہ کار اس صورتحال کو پاکستان کے دیگر خطوں میں ماضی میں پیدا ہونے والی کشیدگیوں سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں تاہم حکومت اور ریاستی ادارے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد صرف امن و امان برقرار رکھنا اور کسی بھی بیرونی یا اندرونی غیر قانونی سرگرمی کو روکنا ہے اور آنے والے دنوں میں صورتحال کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سیاسی مذاکرات اور احتجاجی لائحہ عمل کس سمت میں جاتا ہے، ادھر گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو کامیابی دلوا کر اسکی حکومت بنوانے کی راہ ہموار کردی گئی ہے اور اب کہا جارہا ہے کشمیر میں مجوزہ انتخابات کے نتیجے میں ن لیگ کو حکومت بنانے کا موقع دیا جائے گا اور یہ سب جھرلو جمہوریت کے اصولوں کے مطابق سب کچھ پہلے سے طے شدہ ہے





