آزاد کشمیر : انتخابات سے پہلے احتجاج ، شٹر ڈاؤن کی کال، ریاست طاقت کا مظاہرہ کرنے پر اتر آئ، مقبوضہ و آزاد کشمیر میں فرق ختم

آزاد جموں کشمیر میں جہاں سب سے بڑی عوامی نمائندگی کرنے والی تنظیم کشمیر ایکشن کمیٹی کو گزشتہ روز کالعدم قرار دیکر آزاد کشمیر کو بھی ظلم زیادتی جبر کے پسمنظر میں بھارتی مقبوضہ کشمیر جیسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں ایسے میں زادجموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کے انعقاد کے لیے باضابطہ انتخابی شیڈول جاری کر دیاہے ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اسمبلی کے تمام حلقوں میں انتخابات 27 جولائی 2026 کو منعقد ہوں گے۔ امیدوار 9 جون سے 19 جون 2026تک کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے ۔ادھرآزادکشمیر میں ممکنہ تشدداور احتجاجی کال سے نمٹنے کیلئے حکومت نے پیشگی انتظامات مکمل کر لئے‘آئی جی پولیس آزاد کشمیر نے امن و امان کی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے14ہزار اہلکاروں کی ہنگامی نفری مانگ لی‘5ہزار رینجرزبھی دئیے جائیں ،آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 جون کولانگ مارچ اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال کے پیش نظر سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا‘امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے آئی جی آزاد کشمیر لیاقت علی ملک نے آزادکشمیر کے چیف سیکریٹری اور محکمۂ داخلہ کو ایک ہنگامی مراسلہ بھیجا ہے، جس میں کہاگیا ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ حکومت پاکستان سے 14 ہزار اضافی سکیورٹی اہلکار فراہم کرنے کی درخواست کی جائےجبکہ ایف سی کے 6ہزار ‘اسلام آباد پولیس کے 2000،اور سندھ پولیس کے 1000اہل کاروں کو 7جون سے 21جون تک 15ایام کے لئے فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے ، احتجاجی کال کے پیش نظر طلب کی جانے والی فورسز کو مکمل اینٹی رائٹ سامان کے ساتھ بھجوایاجائے ‘آئی جی اسلام آباد کے دفتر سے جاری دستاویز کے مطابق، آزاد کشمیر حکومت کی درخواست پر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے 1505 پولیس اہلکاربھجوائے جا رہے ہیں، یہاں واضع رہے نو جون کو تازہ تازہ کالعدم قرار دی جانے والی کشمیر ایکشن کمیٹی کی جانب سے کشمیر بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دن اسکی کامیابی و ناکامی فیصلہ کرے گی آیا آزاد جموں کشمیر میں انتخابات ہونگے یا نہیں ااور ہونگے تو عوام کی اس میں شرکت کس حد تک ہوگی ، کشمیر کے معاملات و صورت حال پر نگاہ رکھنے والے سیاسی سماجی تجزیہ نگار سمجھتے ہیں اگر نو مئی کو ریاست کی جانب سے کشمیر ایکشن کمیٹی کی کال پر بڑے پیمانے پر کشمیری باہر نکل آئے جس کی پیشگوئی بھی کی جارہی ہے تو کشمیر ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیئے جانے کے ساتھ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑھتی خلاف ورزیوں کے پسمنظر میں خدشہ ہے ریاست اور عوام میں خونی تصادم کے خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جس کے بعد عام انتخابات کا انعقاد غیر یقینی ہوجائے گا ، یہ تجزیہ نگار سمجھتے ہیں ریاست پاکستان نے کشمیری عوام کو عام انتخابات کے انعقاد کی آڑ میں دبانے کے لیے جس بڑی تعداد میں پنجاب اسلام آباد پولیس کے ساتھ ایف سی اور رینجرز اور دیگر پیرا ملٹری فورس کے دستوں کو کشمیر میں تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے ، اس سے ظاہر ہوتا ہے ریاست پاکستان نے بھارت کی طرز پر ہی آزاد کشمیر کے عوام سے تشدد کے ذریعے ہی نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے ، اور ریاستی رویہ ظاہر کرتا ہے وہ کشمیری عوام کے مطالبات کو تسلیم کرنے کی بجائے طاقت سے نمٹنے کا ارادہ رکھتی ہے

قومی خبریں سے مزید