بھاولپور میں ایک اور دل دہلا دینے والا تیزاب حملہ، سوئی ہوئی خاتون زندگی بھر کے زخموں کے ساتھ اسپتال منتقل
بھاولپور میں ایک بار پھر تیزاب حملے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں گھر میں سوئی ہوئی ایک خاتون پر نامعلوم شخص نے تیزاب پھینک دیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید جھلس کر زندگی بھر کے جسمانی اور نفسیاتی زخموں کا شکار ہو گئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق یہ واقعہ کچی واہ کے علاقے میں پیش آیا جہاں ایک نامعلوم حملہ آور گھر میں داخل ہوا اور سوئی ہوئی خاتون پر تیزاب پھینک کر موقع سے فرار ہو گیا۔ متاثرہ خاتون کو فوری طور پر بہاول وکٹوریہ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں پہلے ہی تیزاب حملوں کے واقعات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے جرائم صرف انفرادی سطح پر نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں خواتین کے خلاف تشدد، کمزور قانون نافذ کرنے کا نظام اور سماجی رویے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں تیزاب حملوں کے واقعات ماضی میں زیادہ رپورٹ ہوتے رہے ہیں، تاہم قانون سازی اور سخت سزاؤں کے بعد ان میں کمی ضرور آئی ہے، لیکن مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اسی تناظر میں حالیہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ کیا موجودہ قوانین اور ان پر عملدرآمد متاثرین کو مکمل تحفظ فراہم کر پا رہے ہیں یا نہیں۔
ادھر ایک الگ واقعے میں کراچی میں عدالت نے بیوی پر تیزاب پھینک کر جھلسانے کے مجرم شوہر کو 24 سال قید کی سزا سنائی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ عدالتی نظام اس طرح کے جرائم پر سخت رویہ اپنا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ سزا کے بعد بھی جرائم کی روک تھام اور سماجی رویوں کی تبدیلی ہے۔
سماجی ماہرین کے مطابق تیزاب حملوں کی بڑی وجوہات میں غیرت کے نام پر تشدد، گھریلو تنازعات، کمزور تعلیمی شعور، اور بعض علاقوں میں روایتی قبائلی سوچ شامل ہے، جہاں خواتین کو کمزور سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قانون کے نفاذ میں تاخیر اور گواہوں کے تحفظ کا نہ ہونا بھی ایسے واقعات کو روکنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔
عالمی سطح پر دیکھا جائے تو تیزاب حملے جنوبی ایشیا میں نسبتاً زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں، جبکہ یورپ اور امریکا میں یہ واقعات انتہائی نایاب ہیں اور زیادہ تر انفرادی یا جرائم پیشہ گروہوں سے متعلق کیسز تک محدود رہتے ہیں۔ ان خطوں میں سخت قوانین، فوری گرفتاری اور مضبوط سماجی تحفظ کے نظام کے باعث ایسے جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔
بھارت میں بھی تیزاب حملوں کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد وہاں سپریم کورٹ نے تیزاب کی فروخت پر سخت قواعد نافذ کیے اور متاثرین کے لیے خصوصی معاوضہ اور علاج کی سہولیات کا نظام متعارف کرایا۔ پاکستان میں بھی قانون سازی موجود ہے، لیکن ماہرین کے مطابق عملدرآمد اور سماجی سطح پر شعور کی کمی اب بھی بڑا چیلنج ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے صرف سخت سزا کافی نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی درکار ہے، جس میں تیزاب کی فروخت پر سخت کنٹرول، متاثرہ خواتین کے لیے فوری قانونی اور طبی امداد، پولیس کی مؤثر کارروائی، اور سب سے بڑھ کر معاشرتی رویوں میں تبدیلی شامل ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ جب تک معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد کو برداشت نہ کرنے کا واضح اور اجتماعی مؤقف نہیں اپنایا جاتا، ایسے واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہیں گے، اور ہر نیا واقعہ ایک اور زندگی کو مستقل اذیت میں تبدیل کر دے گا





