آزاد کشمیر میں بڑی سیاسی و عوامی کشیدگی، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی “کالعدم” قرار، خطے میں صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ

آزاد کشمیر میں بڑی سیاسی و عوامی کشیدگی، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی “کالعدم” قرار، خطے میں صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ

آزاد کشمیر کی حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو باضابطہ طور پر کالعدم تنظیم قرار دے دیا ہے، جس کے بعد خطے میں سیاسی کشیدگی اور عوامی ردعمل کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس تنظیم کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت فرسٹ شیڈول میں شامل کرتے ہوئے کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صدر آزاد کشمیر نے اس فیصلے کی منظوری دی، جبکہ حکام کے مطابق تنظیم کے خلاف ریاستی امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے “معقول شواہد” موجود ہیں۔

حکومتی نوٹیفکیشن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم ریاست میں انتشار پیدا کرنے، عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور معاشرتی عدم تحفظ کو فروغ دینے میں ملوث رہی ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ تنظیم پر نفرت انگیز ماحول بنانے اور امن و امان کو متاثر کرنے کے الزامات بھی ہیں۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام متبادل ناموں کو بھی کالعدم قرار دیے گئے اداروں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ادھر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے پاکستان میں مقیم مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے حوالے سے ایک قرارداد بھی منظور کی ہے، جو اس وقت جاری سیاسی ماحول میں ایک اور اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

حکومت آزاد کشمیر کا مؤقف ہے کہ ریاست میں قانون کی عملداری، امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے اور کسی بھی تنظیم کو ریاستی نظم و نسق اور امن کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیاسی سرگرمیاں اور عوامی تحریکیں پہلے ہی فعال ہیں، جس کے باعث آنے والے دنوں میں صورتحال مزید حساس اور پیچیدہ ہو سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید