سونامحفوظ سرمایہ نہیں رہا؟ جنگی خدشات کے باوجود سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ

سونامحفوظ سرمایہ نہیں رہا؟ جنگی خدشات کے باوجود سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ

نیویارک: عالمی منڈیوں میں سونا، جسے روایتی طور پر غیر یقینی حالات میں محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، اب پہلے جیسا رویہ نہیں دکھا رہا۔ ماہرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں سونے کی قیمتیں جنگ اور جغرافیائی کشیدگی کے دوران بھی غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ سونا اب روایتی محفوظ اثاثے کے بجائے ایک خطرے سے وابستہ اثاثے کی طرح برتاؤ کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی خبروں کے بعد جمعرات کو سونے کی قیمت میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جبکہ ماضی میں ایسی صورتحال میں سرمایہ کار عموماً سونے کی طرف زیادہ رجوع کرتے تھے۔

اس سال مارچ کے وسط میں سونے کی فی اونس قیمت 5 ہزار ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی، تاہم بعد ازاں قیمتوں میں نمایاں کمی آئی اور اب گولڈ فیوچرز 4,500 ڈالر فی اونس سے نیچے ٹریڈ ہو رہے ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اب سونے کو صرف محفوظ پناہ گاہ کے طور پر نہیں دیکھ رہے بلکہ اسے دیگر مالیاتی اثاثوں کی طرح عالمی سیاسی حالات، شرحِ سود، ڈالر کی قدر اور سرمایہ کاروں کے جذبات کے مطابق خرید و فروخت کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوتی ہے اور عالمی معیشت میں استحکام آتا ہے تو سونے کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، جبکہ کسی نئی جنگی یا معاشی بحران کی صورت میں دوبارہ تیزی بھی دیکھی جا سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید