نئی دہلی: بھارت میں جاری مردم شماری کے عمل کے دوران جمع کیے گئے فیلڈ ڈیٹا اور سرکاری ریکارڈ کے درمیان تضادات سامنے آنے کے بعد متعلقہ حکام نے دوبارہ جانچ اور ڈیٹا ریویو کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ راجستھان کے ڈائریکٹر مردم شماری (ڈی سی او) کی جانب سے تمام ضلعی افسران کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اب تک جمع کیے گئے فیلڈ ڈیٹا کے تجزیے کے دوران بعض “غیر مطابقتیں” نوٹ کی گئی ہیں، جن کی تصدیق اور درستگی ضروری ہے۔ رپورٹس کے مطابق بعض شمار کنندگان (اینویمیٹرز) نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ انہیں ایسے آپشنز منتخب نہ کرنے کی ہدایت دی گئی جو حکومتی کارکردگی کو منفی انداز میں ظاہر کر سکتے ہوں۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ انتظامیہ کی جانب سے تمام اضلاع کو ہدایت دی گئی ہے کہ ڈیٹا کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے اور جہاں ضروری ہو وہاں فیلڈ سطح پر دوبارہ معلومات اکٹھی کی جائیں تاکہ اعداد و شمار کی درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق مردم شماری جیسے بڑے قومی منصوبے میں ڈیٹا کی شفافیت انتہائی اہم ہوتی ہے، کیونکہ اسی کی بنیاد پر پالیسی سازی، وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی منصوبے تشکیل دیے جاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل میں کسی بھی سطح پر دباؤ یا بے ضابطگی کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف شماریاتی اعتبار پر بلکہ پالیسی سازی کے پورے نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں





