نیویارک: امریکی مالیاتی حلقوں اور وال اسٹریٹ میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ آیا سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے یا وہاں پیدا ہونے والی رکاوٹوں پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کی سب سے اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس دنیا بھر کی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی طویل رکاوٹ نے عالمی مارکیٹوں میں پہلے ہی بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وال اسٹریٹ میں اب یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ سیاسی بیانات یا سفارتی دباؤ کے باوجود اسٹریٹجک آبی راستوں کی صورتحال کو فوری طور پر معمول پر لانا اتنا آسان نہیں جتنا پہلے سمجھا جا رہا تھا۔ رپورٹس کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جبکہ تیل کی منڈی میں مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی طویل ہوئی تو اس کے اثرات صرف توانائی کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، افراطِ زر اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ عالمی توانائی نظام میں جغرافیائی سیاست کا کردار فیصلہ کن ہوتا جا رہا ہے، اور کسی ایک رہنما یا حکومت کے لیے اس نوعیت کے بحران کو اکیلے حل کرنا آسان نہ





