Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کی نئی یقین دہانیاں، مگر سوال برقرار: اسرائیل ماضی کی جنگ بندیوں پر بھی مکمل عمل نہ کر سکا، کیا اس بار صورتحال مختلف ہوگی؟

ٹرمپ کی نئی یقین دہانیاں، مگر سوال برقرار: اسرائیل ماضی کی جنگ بندیوں پر بھی مکمل عمل نہ کر سکا، کیا اس بار صورتحال مختلف ہوگی؟

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے پہلی مرتبہ حزب اللّٰہ کے ساتھ رابطہ کیا ہے اور تنظیم نے اسرائیل پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ اسرائیل نے بھی لبنان کے خلاف نئی فوجی کارروائی نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور امکان ہے کہ چند روز میں اہم پیش رفت سامنے آسکتی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ ایک معاہدہ طے پانے کے قریب ہے اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی پیش رفت متوقع ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا اسرائیل اس یقین دہانی پر مکمل عمل کرے گا یا نہیں، کیونکہ ناقدین کے مطابق ماضی میں بھی متعدد جنگ بندیوں اور بین الاقوامی معاہدوں کے باوجود خطے میں فوجی کارروائیاں جاری رہی ہیں۔

لبنان کے حوالے سے گزشتہ برس ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی کئی مواقع پر سرحدی حملوں اور فضائی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ فریقین ایک دوسرے پر معاہدوں کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے۔ اسی طرح غزہ میں بھی مختلف ادوار میں جنگ بندیوں کا اعلان ہوا، لیکن بعد ازاں دوبارہ شدید لڑائی شروع ہو گئی اور ہر فریق نے دوسرے کو ذمہ دار قرار دیا۔

اسرائیل کا مؤقف رہا ہے کہ اس کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہوتی ہیں اور وہ اپنے شہریوں پر حملوں یا سکیورٹی خطرات کے جواب میں کارروائی کرتا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی، لبنانی اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے بارہا یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ جنگ بندیوں کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں، جس سے معاہدوں کی روح متاثر ہوئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے حزب اللّٰہ اور اسرائیل دونوں کی یقین دہانیوں کا ذکر یقیناً ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، لیکن ماضی کے تجربات کے باعث صرف بیانات کو حتمی ضمانت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں زمینی صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے اور آیا فریقین واقعی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں یا خطہ ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ممکن ہے کہ ہفتے کے اختتام تک اہم پیش رفت سامنے آئے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی فریقین کسی مفاہمت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر ایران، لبنان، حزب اللّٰہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں واقعی کمی آتی ہے تو یہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوگی، تاہم خطے کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جنگ بندی کے اعلانات اور زمینی حقائق اکثر ایک دوسرے سے مختلف ثابت ہوتے ہیں

قومی خبریں سے مزید