اب ایک ہی علاج بچا ہے
ڈاکٹر سید ندیم احمد
پاکستان کے نام پر مختلف قبائل کو بندوق کی نوک پر اور مذہبی جذباتی نعروں پر جوڑ کر وطن کے نام پر زمینی قید میں رکھنا ظلم ہے
جب کہ ہر قبیلہ کا آدمی پاکستان سے نکل کر انہیں انگریزوں کے پاس جانا چاہتا ہے جن سے انہوں نے آزادی حاصل کی تھی۔
یہ کیسا تاریخ کا مذاق ہے کہ جن انگریزوں سے آپ نے اپنی سمجھ میں تحریک چلا کر آزادی حاصل کی تھی اب انہیں انگریزوں کے پاس واپس جانا چاہتے ہیں چاہے چوری چھپے ، سمندر میں تیر کر ، غیر قانونی طریقہ سے یا قانونی طریقہ سے
سب سے بڑی زیادتی تو ان شمالی ہندوستان یعنی یوپی، سی پی ، بہار کے مسلمانوں کے ساتھ ہوئی جن کے دم پر تحریک چلاکر پنجاب ، سندھ کے لوگوں کو سکھوں اور ہندوں بنیوں کی غلامی سے آزادی دلائی گئی۔
یوپی ، سی پی ، بہار کے مسلمانوں کو اپنی زمینوں کو چھوڑنا پڑا جہاں وہ ہزار سال سے رہ رہے تھے
نہ اب ا ن کے پاس زمین ہے نہ تاریخ بچی ہے وہ بھی بھولتے جارہے ہیں
کہاجاتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی تھی
اب نہ مہاجر بچا ہے نہ مسلمان و اسلام نہ پاکستان
اب بچا ہے تو صرف پنجابی و سندھی ، پختون ورنہ بلوچ بیچارے تو زبردستی بندی بناے گئے ہیں
اگر ہمیں اپنی تاریخی غلطی کو درست کرنا ہے تو تمام قبائل کو نیم خود مختار ریاست بنادینا چاہئے بالکل UAE کی طرز پر
کراچی کو بھی ایک نیم خود مختار ریاست قرار دے دینا چاہئے
ان سب ریاستوں کو ملا کر یونائٹیڈ فیڈریشن آف پاکستان کا نام دے دینا چائیے
ابھی بھی موقع ہے نہیں تو اگر یہ نہیں ہوا تو پاکستان پھر کبھی بھی ترقی نہیں کر پاۓ گا اور ہمارے عوام اسی طرح بندوق کی نوک پر اور مذہبی خوف کے ساۓ تلے سسکتے بلکتے رہیں گے
ڈاکٹر سید ندیم احمد نقوی





