ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ فلکیات آوی لوب ایک بار پھر متنازع سائنسی بحث کے مرکز میں آ گئے ہیں۔ وہ پہلے بھی بین السیاروی جسم اومواموا کے بارے میں مختلف غیر معمولی اور قیاسی نظریات پیش کرتے رہے ہیں جنہیں سائنسی حلقوں کی بڑی تعداد نے محض مفروضے قرار دیا تھا۔ اس بار آوی لوب نے اپنے حالیہ بلاگ میں یہ نیا خیال پیش کیا ہے کہ یہ خلائی جسم ممکن ہے کہ نظامِ شمسی میں زندگی کے بنیادی اجزا پھیلانے کا ذریعہ رہا ہو۔ ان کے مطابق کائنات میں بعض اجرام فلکی ایسے مادے ساتھ لے کر چل سکتے ہیں جو زندگی کی ابتدا کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ تصور سائنسی دنیا میں پہلے سے موجود “پینسپرمیہ” کے نظریے سے جڑا ہوا ہے، جس کے مطابق زندگی کے بنیادی بیج یا ان کے اجزا خلاء میں سیارچوں اور دیگر خلائی اجسام کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتے ہیں۔ تاہم آوی لوب اس خیال کو مزید وسعت دیتے ہوئے اسے غیر معمولی سمتوں میں لے جا رہے ہیں۔ ماہرین کی ایک بڑی تعداد ان قیاسات کو ابھی تک ثابت شدہ سائنسی نتیجہ نہیں مانتی اور ان کے مطابق اس نوعیت کے دعوؤں کے لیے مزید مضبوط شواہد کی ضرورت ہے





