دو نوجوان، ہزاروں اہلکار اور سات روز کا محاصرہ — راجوری کے جنگلات میں جاری معرکے نے سب کو حیران کر دیا
راجوری: مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری کے گھنے اور دشوار گزار جنگلات میں دو مسلح نوجوانوں اور بھارتی فوج و پولیس کے درمیان جاری تعاقب اور جھڑپوں نے پورے خطے کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق ابو حمزہ اور الیاس فوجی نامی دو نوجوانوں کی تلاش میں سیکیورٹی فورسز گزشتہ کئی روز سے بڑے پیمانے پر کارروائی کر رہی ہیں، تاہم مسلسل محاصرے اور جدید وسائل کے باوجود انہیں گرفتار یا ہلاک کرنے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگلاتی علاقوں میں شروع ہونے والا یہ تعاقب وقت کے ساتھ ایک بڑے فوجی آپریشن کی صورت اختیار کر گیا۔ فوج، پولیس اور دیگر دستوں نے متعدد مقامات کا گھیراؤ کیا، سرچ کارروائیاں تیز کیں اور جنگلات کے راستوں پر نگرانی سخت کر دی، مگر دونوں نوجوان مسلسل اپنی جگہ بدلتے رہے جس کے باعث کارروائی طوالت اختیار کرتی گئی۔
اطلاعات کے مطابق مختلف مقامات پر وقفے وقفے سے فائرنگ کے تبادلے بھی ہوئے، جن میں بعض اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بھارتی ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ دونوں نوجوان محاصرے میں ہیں، تاہم کئی روز گزرنے کے باوجود کارروائی کا فیصلہ کن نتیجہ سامنے نہ آنا خود بھارتی حلقوں میں بھی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ راجوری اور پونچھ کے پہاڑی اور جنگلاتی علاقے ماضی میں بھی سیکیورٹی فورسز کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوتے رہے ہیں۔ گھنے جنگلات، دشوار راستے اور محدود رسائی ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جہاں کم تعداد میں موجود افراد بھی طویل عرصے تک تعاقب سے بچنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
اس واقعے نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ جدید نگرانی کے نظام، بھاری نفری اور مسلسل کارروائیوں کے باوجود پہاڑی علاقوں میں جاری مزاحمت کو مکمل طور پر ختم کرنا کیوں ممکن نہیں ہو سکا۔ بھارتی ذرائع کے مطابق آپریشن بدستور جاری ہے اور فورسز دونوں نوجوانوں کی تلاش میں سرگرم ہیں، جبکہ پورا علاقہ سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
راجوری کے جنگلات میں جاری یہ معرکہ اب محض ایک سیکیورٹی کارروائی نہیں رہا بلکہ ایک ایسی کہانی بن چکا ہے جس میں دو نوجوانوں کی مسلسل مزاحمت اور ریاستی قوت کے درمیان کشمکش نے پورے خطے کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے





