قربانی کے موقع پر صفائی اور انتظامات کے دعوے ایک بار پھر سیاسی و انتظامی حلقوں میں نمایاں ہیں، مگر عوامی سطح پر ایک پرانا سوال پھر شدت اختیار کر گیا ہے: کیا حکومتیں واقعی نظام چلاتی ہیں یا صرف اچھے تاثر کی کہانیاں ترتیب دی جاتی ہیں؟ حکومتی بیانات میں صفائی مہمات کو مثالی قرار دیا جا رہا ہے، جدید نگرانی، اعداد و شمار اور بلند دعووں کا ذکر کیا جا رہا ہے، مگر دوسری طرف عام شہری مہنگائی، بے روزگاری، بدانتظامی اور انصاف کے نظام پر اعتماد میں کمی جیسے مسائل کے ساتھ روزمرہ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ تنقیدی حلقوں کے مطابق یہ ایک ایسا طرزِ حکمرانی ہے جہاں اصل کارکردگی سے زیادہ منظرنامہ اہم ہو جاتا ہے، اور اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ بعض مبصرین اسے “انتظامی نمائش” کا نام دیتے ہیں، جہاں ترجیح حل سے زیادہ تاثر کو دی جاتی ہے۔ دوسری جانب حکومتی موقف یہ ہے کہ جدید طریقوں اور نگرانی کے نظام کے ذریعے انتظامی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے اور ماضی کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر بہتری لائی جا رہی ہے۔ فلسفیانہ زاویے سے دیکھا جائے تو سوال یہ ہے کہ ریاست کا مقصد صرف منظر بہتر بنانا ہے یا زندگی کو بہتر بنانا بھی اسی کی ذمہ داری ہے؟ اگر نظام صرف بیانیے پر کھڑا ہو جائے اور عوامی تجربہ مختلف رہے تو پھر اعتماد اور حقیقت کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جو ہر تہوار، ہر مہم اور ہر اعلان کے بعد مزید واضح ہو کر سامنے آتا ہے، اور معاشرہ ایک ہی سوال دہراتا رہتا ہے: اصل تصویر کہاں ہے





