ٹرمپ کا ایک کھرب اسی ارب روپے سے بھی بڑا فنڈ خود وائٹ ہاؤس کے لیے دردِ سر بن گیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندر ایک ایسے فنڈ پر شدید بحث جاری ہے جس کی مالیت تقریباً ایک ارب آٹھ سو ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ یہ فنڈ مبینہ طور پر سرکاری اداروں کے سیاسی استعمال اور مخالفین کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات کے متاثرین کو قانونی معاونت یا ہرجانے کی ادائیگی کے لیے قائم کیا گیا تھا، لیکن اب خود ریپبلکن حلقوں کے بعض افراد اس پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں امریکی ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ مشیر اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ آیا اس فنڈ کو ختم کر دیا جائے تاکہ اس کے بدلے کانگریس سے امیگریشن اور سرحدی نفاذ کے لیے مطلوبہ فنڈنگ حاصل کی جا سکے۔ یوں ایک داخلی سیاسی سودا بازی کی فضا بنتی دکھائی دے رہی ہے جہاں ترجیحات کا تعین دوبارہ کیا جا رہا ہے سیاسی مبصرین کے نزدیک یہ معاملہ صرف بجٹ یا فنڈ کا نہیں بلکہ ترجیحات کی جنگ ہے۔ ٹرمپ کی سیاسی شناخت کا بڑا حصہ سرحدی سلامتی اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت مؤقف سے جڑا ہوا ہے۔ اگر انتظامیہ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس فنڈ کو قربان کرکے سرحدی منصوبوں کے لیے زیادہ وسائل حاصل کیے جا سکتے ہیں تو وہ سیاسی طور پر اسے زیادہ فائدہ مند سودا سمجھ سکتی ہے دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر یہ فنڈ واقعی ان افراد کے لیے بنایا گیا تھا جو ریاستی اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کا شکار ہوئے، تو اسے ختم کرنا اس پورے بیانیے کو کمزور کر سکتا ہے جس کے تحت ٹرمپ اور ان کے حامی برسوں سے “ریاستی اداروں کے سیاسی استعمال” کی شکایت کرتے رہے ہیں ناقدین میں آنے کے بعد ہر حکومت ایک مشکل انتخاب کا سامنا کرتی ہے: کیا وہ اپنے نظریاتی وعدوں پر وسائل خرچ کرے یا ان منصوبوں پر جو ووٹروں کو فوری طور پر نظر آتے ہیں؟ واشنگٹن میں جاری یہ بحث دراصل اسی پرانی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سیاست میں وسائل محدود ہوتے ہیں، مگر وعدے تقریباً ہمیشہ لامحدود۔ اور اکثر حکومتوں کی اصل آزمائش یہ نہیں ہوتی کہ وہ کیا شروع کرتی ہیں، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ کس چیز کو قربان کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں

قومی خبریں سے مزید