گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ چکی ہے اور مختلف حلقوں میں قانون ساز اسمبلی کی نشستوں پر مقابلے کی فضا واضح طور پر بنتی نظر آ رہی ہے۔ مقامی سطح پر ہونے والے ان انتخابات کو علاقے کی سیاسی سمت کے تعین کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت مختلف بڑی جماعتیں اپنی تنظیمی طاقت بڑھانے اور عوامی رابطہ مہم کو مؤثر بنانے میں مصروف ہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف تینوں ہی مضبوط پوزیشن کا دعویٰ کر رہی ہیں تاہم تحریک انصاف کی انتخابی مہم مذکورہ دونوں جماعتوں کے مقابلے میں تمام تر ریاستی جبر کے باوجود انتہائی منظم اور مضبوط نظر آتی ہے، جبکہ اس کی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے مختلف نوعیت کی رکاوٹوں اور انتظامی مشکلات کے بارے میں سیاسی حلقوں میں تحفظات اور الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں، ریاستی انتظامیہ نے سینٹ میں اپوزیشن لیڈر جنید اکبر کو گلگت بلتستان کا دورہ کرنے سے روکتے ہوئے گرفتار کرکے صوبہ بدر کردیا جبکہ اسد قیصر کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر گلگت جانے والی فلائیٹ پر چڑھنے سے روک دیا مقامی ذرائع کے مطابق انتخابی ماحول میں ریاستی انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حساس مقامات پر پولیس اور دیگر فورسز کی تعیناتی بڑھائی جا رہی ہے تاکہ انتخابی عمل پُرامن رہے اور کسی قسم کی کشیدگی پیدا نہ ہو سیاسی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اس خطے میں ووٹ کا رجحان اکثر مقامی مسائل، روزگار، ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات سے جڑا ہوتا ہے، اسی لیے امیدواروں کی مقبولیت کا انحصار زیادہ تر زمینی کارکردگی اور مقامی سطح پر تعلقات پر ہوتا ہے مجموعی طور پر صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ آنے والے انتخابات میں مقابلہ سخت ہوگا اور ہر بڑی جماعت اپنی جگہ بنانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے، جبکہ عوام کی توجہ زیادہ تر عملی مسائل اور حکومتی کارکردگی پر مرکوز ہے





