
ہیوسٹن کے عجب عالمی چیمبر کے جرنیل باڈی اجلاس کی غضب کہانی
آفاق فاروقی
امریکہ میں پاکستانیوں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ جہاں دو پاکستانی اکٹھے ہوں، وہاں تین تنظیمیں بن جاتی ہیں۔ ایک تنظیم اصل، دوسری اس سے ناراض، اور تیسری پہلی دو کے خلاف “متحدہ ایکشن کمیٹی”۔ اب امریکہ بھر میں پھیلے سو سے زائد میں سے ایک ہیوسٹن کے “گریٹر چیمبر آف کامرس” کے نام سے داستان چل رہی ہے، وہ تو لگتا ہے پاکستانی سیاست، خاندانی ڈرامے اور پراپرٹی قبضہ مافیا کا مشترکہ پروجیکٹ ہے
بظاہر لگتا ہے یہ تمام امریکن پاکستانی چیمبر فیلڈ مارشل کے بتائے ہوئے وژن کے مطابق پاکستان کو جی 20 اور پھر جی10 میں دھکے مار کر پہنچانے کے کام میں رات دن ایک کیے ہوئے ہیں مگر
حقیقت میں چیمبر ز جنکا کا کام تجارت سے زیادہ چیئرمین شپ بچانا لگتا ہے،کاروبار کا کوئی پتہ نہیں، سرمایہ کاری کا کوئی نشان نہیں، مگر کرسی ایسی پکڑی ہوئی ہے جیسے بچپن میں بچے آخری سموسہ پکڑ لیتے تھے کہ “یہ میرا ہے، کسی کو نہیں دوں گا”
اور اب جب کچھ پرانے لوگ بولے کہ بھائی جان، بہت ہوگیا، اب الیکشن کرا لیں، تو جواب آیا: “سیکیورٹی بڑھاؤ!” الیکشن پر لطیفہ تو سنا ہوگا ، ضیاالحق کے نائ نے بال کاٹتے ہوئے پوچھا “ سر الیکشن کب کروائیں گے، ضیاالحق خاموش رہے ، نائ نے پھر پوچھا “ سر وہ الیکشن کب کروائیں گے ؟“ نای نے جب بار بار پوچھا تو ضیالحق بگڑ گئے جس پر نائنے خوف سے کانپتے ہوئے کہا “ سر وہ آپ کے بال اتنے چھوٹے ہیں کے قینچی کی پکڑ میں نہیں آرہے مگر جب میں الیکشن کا ذکر کرتا ہوں تو آپ کے سر کے بال کھڑے ہوجاتے ہیں اور باآسانی قینچی کی پکڑ میں آجاتے ہیں
کہتے ہیں چیمبر کی جرنیل باڈی کا اجلاس ہوا، ساٹھ لوگ بیٹھے تھے۔ اب پڑھنے والا سمجھے گا کہ ہیوسٹن کے بڑے بڑے تاجر، صنعتکار، امپورٹر، ایکسپورٹر، آئل ٹائیکون اور کاروباری شخصیات ہوں گی، لیکن اندر کا منظر کچھ اور تھا، آدھے سے زیادہ تو خاندان نکلا،بیوی، بچے، سالے، سالیاں، دوست، احباب، اور کچھ ایسے لوگ جن کے بارے میں خود حاضرین پوچھ رہے تھے: “بھائی یہ کرتے کیا ہیں؟”
یعنی چیمبر آف کامرس کم، فیملی ڈنر زیادہ لگ رہا تھا
ایک چیف پیٹرن سلمان رزاقی بھی تھے،جو اپنے سالے اور ہمیشہ کی طرح مستقل مشقتی کے ہمراہ تشریف فرما تھے پاکستانی تنظیموں میں سالا اب صرف رشتہ نہیں رہا، یہ ایک مکمل ادارہ بن چکا ہے، ہر تنظیم میں دو چیزیں لازمی ہوتی ہیں: ایک چیئرمین، دوسرا سالا، پھر سلمان رزاقی نے امرا شرفا اور سماجی سیاسی رہنماؤں کو مشقتی رکھنے کی ترغیب دینے کی جو مہم شروع کی ہے وہ منفرد بھی ہے اور غضب کی بھی کہ یوں دولت دکھانے بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی، بتایا جارہا ہے رزاقی صاحب نے بریانی کی پلیٹ اور جیب سے ممبر شپ فیس ادا کرکے مبینہ طور پر تین سو کارپوریٹ ورلڈ کے چیف آپریٹرز پر مشتمل ممبر شپ بنالی ہے اور وہ کسی دن کسی وقت بھی ایک بار پھر صدارت کی نئی لکرسی کے جھولے لے سکتے ہیں
اصل مزہ تو وہاں شروع ہوا جب پرانے ممبران جرنیل باڈی میں شرکت کے لیے پہنچے اور انہیں پہلے سے تعینات پولیس نے اندر جانے سے روک دیا ، ، وہ لوگ جنہوں نے یہ تنظیم بنائی، پال پوس کر بڑی کی، انہی کو گیٹ پر روک لیا گیا، باقاعدہ پولیس کھڑی تھی، پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ موجود تھے، جیسے اندر کوئی جی سیون سربراہی اجلاس ہو رہا ہو،
بانی تنظیم کے بیٹے اسد عباسی آئے، انہیں کہا گیا: “آپ اندر نہیں جا سکتے۔” بھتیجے بابر شریف عباسی ۔۔ بھئی تمہارا کیا کام ؟
زبیر اشرف سابق نائب صدر ، “آپ بھی نہیں،”سابق صدر پی جے خان سواتی کو دیکھتے ہی ۔۔۔ ناں تم تو بالکل بھی نہیں، کیونکہ تم نے “جعلی فاونڈنگ ممبر شپ کی کہانی پکڑ لی تھی” ، وائس پریزیڈنٹ واحد لالہ پر تو نگاہ ڈالنا بھی حرام قرار دیا گیا، ایک اور صدر وسیم اختر کو دیکھ کر منہ بناتے ہوئے فرمایا “ تم اپنے نہیں رہے “ یوں کوئ اٹھارہ پرانے ممبرز عہدے دار جن میں لائف ٹائم ممبرز ، فاونڈنگ ممبرز ، سابق خزانچی، سیکریٹری نائب صدور، صدور سب ہی شامل تھے، میں سے بارہ پولیس دکھا کر دوڑا دیئے گئے، بس چھ کو حضور والا قبلہ و کعبہ مدظلہ علیہ جناب عامر پیپرانی کے دید کا شرف بخشا گیا اور ہاں میں ہاں ملانے کی اجازت دی گئی
یہ منظر دیکھ کر لگتا تھا جیسے پاکستانی چیمبر آف کامرس نہیں بلکہ کسی شادی ہال میں دلہے کے ناراض رشتہ داروں کو روکا جا رہا ہو
اگر اندر کوئ براجمان تھا تو وہ لالہ گلُ فراز اور انکا بھائ ممتاز اگلی نشستوں پر موجود تھے جو عامر پیپرانی نام کے جرنیل کو لانے میں مددگار بنے تھے جس نے سالے سالیوں بلکہ کہنا چاہیے چیمبر آف کامرس کو سسرالی انجمن تاجران نان نفقہ ترتیب دے ڈالی ہے اور جس کے صلے میں بانی ڈاکٹر اشرف عباسی نے لالہ کو چیمبر نکالا دیدیا تھا اور پھر امریکن پاکستانی کمیونٹی کے عظیم تاریخی سیاسی سماجی معاشی رہنما سلمان رزاقی نے لالہ کا خاندانی عہدہ پیٹرن انچیف قبول فرمایاتھا کہ سلمان رزاقی جو اس سے قبل پی اے جی ایچ کو اپنی صدارت کی خلعت پہنا کر پی اے جی ایچ کو ہیوسٹن ہی نہیں پورے امریکہ یورپ میں اوورسیز پاکستانیوں کی ایسی تنظیم بنانے کے بعد ہاتھ جھاڑ کر نکلے تھے کہ شاید ہی اب دنیا کی کوئ قوم ہو جو پی اے جی ایچ جیسی سماجی تنظیم بنانے کو بے قرار و بے چین نہ ہو کے اس سے قبل وہ PHF پاکستان ہیریٹیج فاؤنڈیشن بنا کر پاکستانی کلچر و ہیریٹج ایک بڑے صندوق میں دفن کرکے لندن کے مادام تساؤ میوزیم میں رکھوا چکے تھے،جہاں اب ایک عالم ٹکٹ لیکر وہ صندوق دیکھنے جاتا ہے، یار لوگ کہتے ہیں سلمان رزاقی کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ ہششاشیت اورلیڈرانہ شوخی دیکھ کر گانا یاد آتا ہے “ یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے “
بتانے والے بتاتے ہیں اندر جرنیل باڈی میں بیٹھے کچھ لوگوں نے کہا بھی کہ “باہر کھڑے لوگ پرانے لوگ ہیں، عزت دار لوگ ہیں، یہ بھی کبھی جرنیل رہے ہیں ہم گارنٹی دیتے ہیں، آنے دیں۔” مگر شاید ڈر یہ تھا کہ کہیں اندر آ کر کوئی خطرناک سوال نہ پوچھ لے، مثلاً:
“چیمبر نے پچھلے چار سال میں کیا کیا ہے؟”
یہ سوال پاکستانی تنظیموں میں ایٹم بم سمجھا جاتا ہے
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جس تنظیم کا باہر کوئی خاص وجود نہیں، جس کی سرگرمیاں خوردبین سے بھی نظر نہیں آتیں، اس کے اندر بھی “قبضہ گروپ” بن گیا ہے۔ یعنی اب جعلی میں بھی اصلی اور نقلی کی لڑائی شروع ہوگئی
پاکستانی جہاں جاتے ہیں، اپنا کلچر ساتھ لے جاتے ہیں،یہاں بھی لے ماشااللہ سے آئے ہیں ،وہاں پلاٹ پر قبضہ ہوتا تھا، یہاں چیمبر پر ہوگیا،وہاں یونین پر کیس ہوتے تھے، یہاں بزنس فورم ، اور مسجد عدالت جاتی ہے
اب خبر یہ ہے کہ بانی ڈاکٹر اشرف عباسی جنہوں نے پاکستان سے سمن جاری کردیا تھا کہ “بھائی جان، اب کرسی چھوڑ دیں، ورنہ عدالت چلتے ہیں۔” کل پرسوں میں بس کسی وقت بھی پدھارنے والے ہیں ۔۔ اور پھر ہوگا دم دما دم مست قلندر اور چیمبر عدالت چڑھے گی بالکل ایسے جیسے چھوٹی عید کا چاند مولوی کی چھت پر نکلتا ہے
پھر اسی کے ساتھ آئے گا وہ مرحلہ جو اکثر پاکستانی تنظیموں کی اصل منزل گردانا جاتاہے، مطلب عدالت ، مخالفت اور پھر” تیاں پانچا “،
کیونکہ ہماری کمیونٹی میں تنظیم دو ہی طریقوں سے ختم ہوتی ہے، یا تو فنڈ ختم ہوجاتے ہیں، یا پھر کیس شروع ہوجاتا ہے
اور عدالت میں جب کیس جائے گا تو جج شاید سر پکڑ کر پوچھے:
“یہ چیمبر آخر کرتا کیا ہے؟”
اور کمرہ عدالت سے دھیمی آواز آئے گی:
“سر… اجلاس کرتا ہے!
امید ہے ہر پڑھنے والے کو سمجھ آنے لگی ہوگی امریکہ میں مقامی گورے ملک کے مستقبل کو لیکر پریشان کیوں ہیں ؟کہ ان تیسری دنیاؤں کے وحشیوں کے ہاتھ گر یہ ملک بھی لگ گیا تو ہوگا کیا ؟ اور پھر اب یہ بھی سمجھ میں آجانا چائیے پاکستان کا یا تیسری دنیا کے ممالک کا جو حال ہے وہ ہوا تو کیسے اور کیوں ؟





