ارب ڈالر کی بلندی سے مکمل زوال تک — بائیجو رویندرن کی تعلیمی ایمپائر کیسے قرضوں، مقدمات اور بحران میں ڈوب گئی۔ نئی دہلی / سنگاپور: کبھی دنیا کی سب سے بڑی ایڈٹیک کامیابیوں میں شمار ہونے والی کمپنی BYJU’S آج ایک ایسے مالیاتی اور قانونی بحران میں پھنس چکی ہے جس نے اس کی شاندار ترقی کی کہانی کو ایک سخت کاروباری انتباہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ کمپنی کے بانی بائیجو رویندرن کی قیادت میں یہ ادارہ ایک وقت میں تقریباً 22 ارب ڈالر کی ویلیویشن تک پہنچ گیا تھا، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ کمپنی بھاری قرضوں، قانونی مقدمات اور ادائیگیوں کے بحران میں گھری ہوئی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق کمپنی پر مختلف سرمایہ کاروں اور اداروں کے واجبات، ملازمین کی ادائیگیوں کے مسائل اور قانونی تنازعات نے اس کے مالی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد اس کی مارکیٹ پوزیشن تیزی سے کمزور ہوئی۔ مزید برآں، رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کمپنی کے بانی کے خلاف سنگاپور میں قانونی کارروائیوں کے بعد ان کی غیر موجودگی میں سزا بھی سنائی گئی ہے، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کاروباری تجزیہ کاروں کے مطابق BYJU’S کا زوال نہ صرف ایک کمپنی کی ناکامی ہے بلکہ یہ عالمی اسٹارٹ اپ ایکوسسٹم کے لیے ایک واضح انتباہ بھی ہے کہ تیز رفتار توسیع، بھاری سرمایہ کاری اور غیر متوازن کاروباری ماڈلز کس طرح بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس نے یہ بحث دوبارہ زندہ کر دی ہے کہ ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس میں “ہائی ویلیویشن” اور “حقیقی مالی استحکام” کے درمیان فرق کو نظر انداز کرنا کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ آج BYJU’S کی کہانی ایک ایسی مثال بن چکی ہے جسے عالمی کاروباری دنیا میں “گریڈ ٹو زوال” کی سب سے بڑی احتیاطی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





