نیو یارک میں اوورسیز تقریب کے گرد سیاسی کشمکش، اسحاق ڈار کی آمد سے پہلے تقریب کے مقام اور مہمانوں میں بڑی تبدیلیاں

نیو یارک میں اوورسیز تقریب کے گرد سیاسی کشمکش، اسحاق ڈار کی آمد سے پہلے تقریب کے مقام اور مہمانوں میں بڑی تبدیلیاں

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جو ان دنوں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک میں موجود ہیں، انکی یہاں موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کی ایک تنظیم کے زیر اہتمام ایک تقریب کے انعقاد و التوا کی ایک متنازع اور غیر معمولی صورتحال سامنے آئی ہے
اطلاعات کے مطابق لانگ آئی لینڈ کے علاقے میں ایک ہال میں گزشتہ روز معرکہ حق کے پسمنظر میں ایک تقریب منعقد کی جانی تھی جس کا انتظام اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق تنظیم جس کی قیادت ظہیر مہر کرتے ہیں ، جنہوں نے تقریب کو کمیونٹی کی مشترکہ کاوش بنانے کے لیے کمیونٹی کی دیگر متعدد تنظیموں سے بھی تعاون لیا تھا
ذرائع کے مطابق اس تقریب میں اسحاق ڈار کو مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا،بتایا جاتا ہے قبل ازیں مجوزہ تقریب میں شرکت کے لیے وزیراعظم پاکستان فیلڈ مارشل ، اور نائب وزیراعظم کو پہلے سے دعوت نامے بھیجے گئے تھے ، تاہم بعد ازاں صورتحال میں اچانک تبدیلی سامنے آئی
ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کے امریکہ میں تعینات سفیر رضوان شیخ کو ابتدائی طور پر اس مزکورہ تقریب کے انتظامات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تھا، جب انہیں اس بارے میں معلومات ملیں تو انہوں نے طور پر مقامی مسلم لیگ ن کی قیادت سے رابطے کیے تاکہ تقریب کو صرف اس لئیے ملتوی کروایا جاسکے کہ ظہیر مہر نے ان سے مشورہ کیے بغیر تقریب منعقد کرنے کی کوشش کیوں کی
ذرائع کے مطابق، یہ بھی سامنے آیا کہ اسحاق ڈار کی جانب سے طے شدہ شیڈول میں تبدیلی کی گئی تقریب کے کرتا دھرتاؤں کو عین تقریب سے ایک روز پہلے بتایا گیا اسحاق ڈار مذکورہ شام ایک سفارتی ڈنر میں شریک ہوں گے جو مڈل ایسٹ اور عرب ممالک کے سفیروں کے ساتھ منعقد کیا جا رہا ہے، جس کے باعث مذکورہ تقریب میں ان کی شرکت ممکن نہ ہوگی
یہاں یہ امر دلچسپی سے ہرگز خالی نہیں لانگ آئی لینڈ میں طے شدہ اوپن کمیونٹی ایونٹ کو سبوتاژ کر کے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی ہی ایک اور منظور نظر تنظیم اے پی پیک کی محدود نوعیت کی نجی تقریب میں منتقل کر دیا گیا جو آج عین عید کے روز اے پی پیک نامی تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر اعجاز کے گھر منعقد ہوگی
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد تقریب میں شرکت کے لیے صرف مخصوص افراد کو پاکستان قونصلیٹ کی جانب سے کمیونٹی میں حکومت پاکستان و اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر افراد کو مدعو کیا جا رہا ہے، جبکہ پہلے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یہ ایک وسیع اور کمیونٹی کو مشترکہ ایونٹ ہوگا جس میں کمیونٹی کے مختلف طبقوں کی شرکت متوقع تھی، یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے ہرگز خالی نہیں ظہیر مہر کی جانب سے منعقدہ تقریب میں جہاں دوسری کمیونٹی تنظیمیں ظہیر مہر سے تعاون کررہی تھیں وہیں ڈاکٹر اعجاز احمد کی تنظیم بھی ان معاون تنظیموں میں شامل تھی، تاہم جب ظہیر مہر کی تنظیم کے زیر انتظام تقریب کو ملتوی کرکے ڈاکٹر اعجاز کے گھر مخصوص تقریب کا پلان ترتیب دیا گیا تو ظہیر مہر کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی گئی ، واضع رہے ظہیر مہر کی اوورسیز تنظیم بھی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے قریب تصور کی جاتی ہے مگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ،سیاست دان اور پاکستانی سفارت کار اسٹیبلشمنٹ کے ہرکاروں یا منظور نظر افراد کو نوازتے ہوئے پیسے اور اسٹیٹس کو ہمیشہ اہمیت دیتے ہیں اور مذکورہ واقعہ میں بھی اسی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا

قومی خبریں سے مزید