ملک کی معیشت سے متعلق ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے تقریباً 2340 ارب روپے کے برابر قرض لیا، لیکن اسی عرصے میں عوام سے صرف پٹرولیم لیوی کی مد میں اس سے بھی زیادہ یعنی 2725 ارب روپے وصول کر لیے گئے- اعداد و شمار کے مطابق یہ رقم آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والے مالی سہارا سے بھی زیادہ ہے، جس نے معاشی پالیسی اور عوامی ریلیف کے دعوؤں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پٹرولیم لیوی براہِ راست پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں شامل ایک اضافی حکومتی چارج ہے، جو ہر شہری کی جیب پر اثر ڈالتا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور مجموعی مہنگائی میں فوری اضافہ ہوتا ہے، جس کا دباؤ عام آدمی برداشت کرتا ہے۔ دوسری جانب آئی ایم ایف سے حاصل قرض ملک کے مالی خسارے کو پورا کرنے اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم اس کے ساتھ سخت مالی شرائط بھی ہوتی ہیں جن کے تحت حکومت کو ریونیو بڑھانے اور سبسڈیز محدود کرنے جیسے اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں اصل بوجھ اندرونی ٹیکسوں اور لیویز کے ذریعے عوام پر منتقل ہو رہا ہے، جس سے پہلے سے مہنگائی کے شکار شہری مزید دباؤ میں آ گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں مہنگائی اور توانائی کی قیمتیں پہلے ہی عوامی بحث کا مرکز بنی ہوئی ہیں، اور حکومت کی ریونیو پالیسی پر سوالات شدت اختیار کر رہے ہیں





