ایران جنگ: تین ماہ بعد ٹرمپ کو “طویل المدتی اسٹریٹجک ناکامی” کے خدشات، تجزیہ کاروں کی تشویش بڑھ گئی
تین ماہ قبل ایران پر امریکی حملوں کے بعد اب سوال اٹھنے لگا ہے کہ آیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں یا نہیں۔
تازہ تجزیوں کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت برقرار رکھی ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ اس کا سیاسی نظام بھی بڑی حد تک برقرار ہے۔ اس صورتحال نے اس تاثر کو کمزور کیا ہے کہ امریکہ واضح فتح حاصل کر چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی فوجی کارروائیوں کو بعض سطح پر حکمت عملی کی کامیابی کہا جا رہا ہے، لیکن ان نتائج کو ایک واضح سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اسی دوران ایران کی جانب سے مزاحمت اور مذاکرات میں سخت مؤقف نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو طویل المدتی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ ایران اپنی کمزور معاشی اور فوجی صورتحال کے باوجود خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکتا ہے۔
ایک سابق امریکی مذاکرات کار کے مطابق یہ تنازع “مختصر اور فیصلہ کن مہم” کے بجائے ایک ایسی صورتحال میں بدل رہا ہے جسے طویل المدتی اسٹریٹجک ناکامی کہا جا سکتا ہے۔





