پوتن کا بیجنگ دورہ: روس-چین اتحاد مضبوط مگر گیس پائپ لائن معاہدہ ناکام۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے حالیہ بیجنگ دورے میں روس اور چین کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششیں تو سامنے آئیں، مگر ایک اہم توانائی منصوبے پر پیش رفت نہ ہو سکی۔ رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان “پاور آف سائبیرِیا 2” گیس پائپ لائن منصوبے پر کوئی بڑا معاہدہ طے نہیں پا سکا، جسے ماسکو کے لیے ایک سفارتی اور اقتصادی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ روسی گیس کو چین تک مزید وسیع پیمانے پر پہنچانے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم دورے کے دوران بیجنگ اور ماسکو نے 40 سے زائد معاہدوں پر دستخط کیے، جن میں تجارت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور نیوکلیئر سیکیورٹی جیسے شعبے شامل ہیں۔ ان معاہدوں کو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دورہ ایسے وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حال ہی میں بیجنگ کے دورے پر گئے تھے، اور مبصرین کے مطابق چین نے روسی صدر کے لیے بھی تقریباً ویسا ہی پروٹوکول اور شاندار استقبال کیا جیسا امریکی قیادت کے لیے کیا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ روس اور چین بظاہر قریب آ رہے ہیں، لیکن توانائی جیسے بڑے منصوبوں پر اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تعلق مکمل طور پر بغیر رکاوٹ کے نہیں ہے۔





