جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز کی نگرانی — اور پسِ پردہ پاکستان کا خاموش کردار؟

جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز کی نگرانی — اور پسِ پردہ پاکستان کا خاموش کردار؟
امریکی مالیاتی اور جغرافیائی سیاسی پلیٹ فارم “دی کوبیسی لیٹر” کی جانب سے سامنے آنے والے ایک دھماکہ خیز دعوے نے عالمی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ایک “حتمی مسودہ” تقریباً تیار ہو چکا ہے، جس کا اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مجوزہ معاہدے میں چھ بڑے نکات شامل ہیں، جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سیاست بلکہ عالمی توانائی، سمندری تجارت اور خطے کے سیکیورٹی نظام کو بھی بدل سکتے ہیں۔
ممکنہ معاہدے کے اہم نکات کے مطابق:

  • تمام محاذوں پر فوری اور مکمل جنگ بندی
  • فریقین کا ایک دوسرے کے انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنانے کا وعدہ
  • خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی ضمانت
  • مشترکہ نگرانی کے نظام کے تحت سمندری راستوں کی نگرانی
  • ایران کی جانب سے شرائط ماننے پر پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی
  • اور سات دن کے اندر باقی تنازعات پر باضابطہ مذاکرات کا آغاز
    رپورٹ کا سب سے حساس حصہ وہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسعود پزشکیان خود ایرانی نظام کے اندر پاسدارانِ انقلاب کے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں تاکہ سفارتی عمل پٹڑی سے نہ اترے۔
    اسی دعوے نے تہران کے طاقتور حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ ایران میں ہمیشہ سے یہ تاثر موجود رہا ہے کہ خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی پر اصل اثر پاسدارانِ انقلاب کا ہوتا ہے، نہ کہ صرف منتخب حکومت کا۔
    سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا پہلو پاکستان کا ممکنہ کردار ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی حکام اس پورے معاہدے کی “ثالثی” کر رہے ہیں۔
    یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب:
  • عاصم منیر کے تہران رابطوں کی خبریں گردش میں ہیں
  • پاکستان کے وزیرِ داخلہ کے مسلسل ایران دوروں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں
  • اور اسلام آباد و راولپنڈی میں غیرمعمولی سیکیورٹی اقدامات، ناکے اور حساس نقل و حرکت دیکھی جا رہی ہے
    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو پہلے ہی یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ “پاکستانی آج ایران جا رہے ہیں” اور مذاکرات میں “اچھی علامات” موجود ہیں۔
    اب عالمی سفارتی حلقوں میں سب سے بڑا سوال یہی ہے:
    کیا واقعی چند گھنٹوں میں ایک ایسی ڈیل سامنے آنے والی ہے جو مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کے دہانے سے واپس کھینچ لے گی؟
    یا پھر یہ صرف ایک اور خاموش سفارتی آزمائش ہے جس کے پیچھے طاقت، تیل اور عالمی سیاست کا بڑا کھیل چھپا ہوا ہے؟

قومی خبریں سے مزید