کیا امریکہ، ایران اور پاکستان کے درمیان ‘فائنل ڈیل’ کے آخری لمحات شروع ہو چکے ہیں؟
رپورٹ آفاق فاروقی
واشنگٹن، تہران اور اسلام آباد کے درمیان تیزی سے بدلتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں نے خطے میں ایک نئی سنسنی پھیلا دی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان کے بعد کہ “پاکستانی فیلڈ مارشل آج ایران جا رہے ہیں” اور مذاکرات میں “اچھی علامات” نظر آ رہی ہیں، اب پاکستان کے اندر ہونے والی غیرمعمولی نقل و حرکت نے ان قیاس آرائیوں کو مزید مضبوط کر دیا ہے کہ شاید کوئی بڑی ڈیل اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
سفارتی ذرائع اور علاقائی مبصرین کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر یا پہلے ہی ایران جا چکے ہیں، یا پھر کسی بھی وقت جانے والے ہیں، جہاں پاکستان کے وزیرِ داخلہ سے پہلے ہی اعلیٰ سطح کے پسِ پردہ مذاکرات جاری ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ داخلہ کا یہ ایک ہفتے کے اندر دوسرا دورۂ ایران ہے، اور اس دوران انہوں نے ایرانی قیادت کے اہم ترین حلقوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔
پاکستانی وزیرِ داخلہ نے:
- ایرانی وزیرِ داخلہ سے ملاقات کی
- پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز سے مذاکرات کیے
- اور ایرانی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور حلقوں کے ساتھ بھی رابطے بڑھائے
اسی دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود امریکی قیادت مسلسل “ڈیل” کی زبان استعمال کر رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کی جانب سے بھی عندیہ دیا جا رہا ہے کہ اگر ایران لچک دکھائے تو کسی بڑے تصادم کو روکا جا سکتا ہے۔
صورتحال کو مزید پراسرار بنانے والی بات پاکستان کے اندر سیکیورٹی کی اچانک سختی ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں مختلف مقامات پر ناکے، اضافی چوکیاں اور غیرمعمولی سیکیورٹی تعیناتیاں شروع ہو گئی ہیں۔ بعض علاقوں میں نقل و حرکت محدود کیے جانے اور شہر کو “سیل” کرنے جیسی تیاریاں دیکھی جا رہی ہیں۔ سیاسی حلقے اسے کسی بڑے سفارتی یا عسکری اعلان سے پہلے کی تیاری قرار دے رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ:
“جب اسلام آباد اور پنڈی کو اس انداز میں بند کیا جاتا ہے تو عموماً پسِ پردہ کوئی بڑا فیصلہ یا حساس پیش رفت چل رہی ہوتی ہے۔”
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان پہلے ہی امریکہ اور ایران کے درمیان خفیہ رابطوں میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ اسلام آباد میں ماضی میں بھی بالواسطہ مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔
اب سوال یہ ہے:
کیا پاکستان واقعی واشنگٹن اور تہران کے درمیان آخری “بریک تھرو” کرانے جا رہا ہے؟
کیا خطہ ایک نئی جنگ سے بچنے کے قریب ہے؟
یا پھر یہ سب کسی اور بڑے جیوپولیٹیکل کھیل کی خاموش تیاری ہے؟





