ڈیموکریٹس کی خفیہ رپورٹ کی وائٹ ہاؤس کے اندرونی کھیل، کمالا کو پارٹی

ڈیموکریٹس کی خفیہ رپورٹ کی وائٹ ہاؤس کے اندرونی کھیل، کمالا کو پارٹی نے خود ہروایا، جس کے لیے باقاعدہ سازش کی، واشنگٹن پوسٹامریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر 2024 کے صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد ایک ایسی اندرونی رپورٹ سامنے آئی ہے جس نے واشنگٹن کی سیاسی فضا میں بھونچال پیدا کر دیا ہے، یہ رپورٹ صرف ایک انتخابی تجزیہ نہیں بلکہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت، وائٹ ہاؤس کے فیصلوں اور اندرونی طاقت کے کھیل پر فردِ جرم سمجھی جا رہی ہےرپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹس کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے اپنی شکست کی اصل وجوہات تسلیم کرنے کے بجائے “انکار کی سیاست” اپنائی، پارٹی کے اندر کئی رہنما اب بھی یہ دلیل دے رہے ہیں کہ چونکہ کمالا ہیرس اور دیگر ڈیموکریٹ امیدوار بہت کم فرق سے ہارے، اس لیے پارٹی کو صرف معمولی تبدیلیوں کی ضرورت ہے، لیکن رپورٹ میں اس سوچ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہی ذہنیت پارٹی کو حقیقی احتساب اور اصلاحات سے دور رکھ رہی ہےیہ ڈرافٹ رپورٹ ڈیموکریٹک اسٹریٹجسٹ پال رویرا نے تیار کی، اور اس میں براہِ راست جو بائیڈن کی وائٹ ہاؤس ٹیم کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے کمالا ہیرس کو کبھی اس انداز میں آگے نہیں بڑھایا کہ وہ مستقبل کی قومی قیادت سنبھال سکیںرپورٹ میں کہا گیا کہ وائٹ ہاؤس نے نہ صرف نائب صدر کو مضبوط سیاسی کردار دینے میں ناکامی دکھائی بلکہ انہیں عوامی سطح پر ایک مؤثر قومی لیڈر کے طور پر پیش کرنے کی بھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی، رپورٹ کے الفاظ میں“وائٹ ہاؤس نے نائب صدر کو نہ مناسب مقام دیا اور نہ تیار کیا، اگر کمالا ہیرس کو شروع ہی سے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جاتا تو شاید صدر بائیڈن کی مقبولیت بہتر ہوتی، اور کمالا ہیرس بھی صدارتی ٹکٹ سنبھالنے کے لیے زیادہ تیار ہوتیں۔”رپورٹ کا سب سے چونکا دینے والا حصہ وہ ہے جہاں یہ انکشاف کیا گیا کہ وائٹ ہاؤس نے جل بائیڈن کے سیاسی کردار کے بارے میں باقاعدہ پولنگ کروائی۔ مقصد یہ جاننا تھا کہ وہ اپنے شوہر کی مقبولیت بڑھانے میں کس حد تک مددگار ثابت ہو سکتی ہیں؟ لیکن حیران کن طور پر کمالا ہیرس کے لیے ایسی کوئی منظم حکمتِ عملی، سروے یا سیاسی تیاری نہیں کی گئیاسی نکتے پر اب پارٹی کے اندر شدید غصہ پایا جا رہا ہے، کئی ڈیموکریٹس یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر کمالا ہیرس مستقبل کی ممکنہ امیدوار تھیں تو پھر انہیں قومی سطح پر مضبوط بنانے کے لیے بروقت اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ کیا وائٹ ہاؤس کو ان کی سیاسی صلاحیت پر اعتماد نہیں تھا؟ یا پارٹی کے اندر طاقت کے کچھ حلقے انہیں مکمل طور پر ابھرنے نہیں دینا چاہتے تھےرپورٹ میں ایک اور اہم اعتراف بھی سامنے آیا، اس کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے ٹرمپ کے خلاف جارحانہ مہم چلانے میں ہچکچاہٹ دکھائی، پارٹی کے اندر یہ سوچ پائی جاتی تھی کہ ٹرمپ کے متنازع بیانات، عدالتی مقدمات اور سیاسی تنازعات پہلے ہی عوام کے ذہنوں میں “فکس” ہو چکے ہیں، اس لیے مزید منفی مہم شاید کوئی بڑا فرق پیدا نہ کرےلیکن رپورٹ کے مطابق یہی حساب کتاب غلط ثابت ہوا، ڈیموکریٹس ٹرمپ کے خلاف واضح اور جارحانہ بیانیہ بنانے میں ناکام رہے، جبکہ ٹرمپ مسلسل اپنے ووٹرز کو متحرک کرتے رہے، نتیجہ یہ نکلا کہ پارٹی کا پیغام کمزور پڑ گیا اور ووٹرز کے ایک بڑے حصے نے ڈیموکریٹس کو غیر فیصلہ کن اور بے سمت سمجھنا شروع کر دیارپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد واشنگٹن میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ 2024 کی شکست صرف ایک انتخابی ناکامی نہیں تھی بلکہ یہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر قیادت، اعتماد اور حکمتِ عملی کے گہرے بحران کی علامت تھیاب سب سے بڑا سوال یہی پوچھا جا رہا ہے:کیا کمالا ہیرس واقعی عوام سے ہاریں یا انہیں اپنی ہی پارٹی کے طاقتور حلقوں نے سیاسی طور پر تنہا چھوڑ دیا؟

قومی خبریں سے مزید