امریکہ آج میں تحریر آفاق فاروقی

؟ واشنگٹن کی راہداریوں سے لے کر نیویارک کی سب وے ٹرینوں تک، ٹیکساس کے پٹرول پمپوں سے لے کر کیلیفورنیا کی یونیورسٹیوں تک، اور مشی گن کے صنعتی شہروں سے لے کر دیہی امریکہ کے خاموش قصبوں تک — آج کا امریکہ ایک ہی وقت میں طاقتور بھی دکھائی دیتا ہے اور بے چین بھی۔ یہ وہ امریکہ ہے جو دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت رکھتا ہے، مگر اپنے ہی شہریوں کے مستقبل کے خوف سے مکمل طور پر آزاد نہیں۔ یہ وہ ملک ہے جو عالمی سیاست کے ہر بڑے بحران میں موجود ہے، مگر اندرونی طور پر مہنگائی، سیاسی تقسیم، ثقافتی کشمکش اور معاشی دباؤ کے درمیان مسلسل الجھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اور شاید اسی لیے 2026 کا امریکہ صرف ایک سپر پاور نہیں، بلکہ ایک سوال بن چکا ہے: کیا امریکہ اب بھی وہی امریکہ ہے جسے دنیا جانتی تھی؟ امریکی سیاست میں اس وقت سب سے طاقتور نام بدستور Donald Trump ہیں۔ حیران کن بات یہ نہیں کہ وہ اب بھی سیاسی میدان میں موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ مسلسل مقدمات، شدید میڈیا تنقید، عالمی تنازعات اور داخلی اختلافات کے باوجود ان کا ووٹ بینک بڑی حد تک قائم دکھائی دیتا ہے۔ کئی ریاستوں میں ہونے والے حالیہ ریپبلکن پرائمری انتخابات میں ایسے امیدوار کامیاب ہوئے جنہیں براہِ راست ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی۔ کینٹکی، لوزیانا اور انڈیانا جیسے علاقوں میں یہ نتائج صرف مقامی سیاست نہیں بلکہ اس حقیقت کا اظہار سمجھے جا رہے ہیں کہ ریپبلکن جماعت کے اندر ٹرمپ اب بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب متعدد قومی سروے یہ بتا رہے ہیں کہ امریکی ووٹرز کی ایک بڑی تعداد سیاسی تھکن، معاشی پریشانی اور مسلسل تنازعات سے اکتا چکی ہے۔ کچھ جائزوں میں ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی دکھائی دیتی ہے، مگر زمینی سیاست ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ جلسوں میں آنے والے لوگ، دیہی علاقوں کی گفتگو، اور متوسط طبقے کی ناراضی یہ اشارہ دیتی ہے کہ ٹرمپ صرف ایک سیاستدان نہیں رہے، بلکہ امریکہ کے ایک بڑے طبقے کے غصے، خوف اور شناختی بحران کی علامت بن چکے ہیں۔ اسی دوران عالمی منظرنامہ بھی امریکہ کے اندرونی ماحول پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے امریکی عوام کے ذہن میں ایک نئی بے چینی پیدا کی ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد امریکی معاشرہ ایک اور طویل مشرقِ وسطیٰ تنازعے کے تصور سے خوفزدہ دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن میں پالیسی ساز اسرائیل کی حمایت کو اسٹریٹجک ضرورت قرار دیتے ہیں، مگر عام امریکی شہری کے ذہن میں ایک زیادہ سادہ سوال گردش کرتا ہے: “اگر ایک اور جنگ ہوئی تو اس کی قیمت کون ادا کرے گا؟” یہ سوال صرف فوجی اخراجات کا نہیں۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں، مہنگائی، اشیائے خور و نوش کے بڑھتے ہوئے نرخ، اور گھروں کے کرایے پہلے ہی متوسط طبقے کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔ بہت سے امریکیوں کے لیے عالمی سیاست اب کسی دور دراز خطے کا معاملہ نہیں رہی؛ وہ اسے اپنی روزمرہ زندگی، بجلی کے بل، کار کے ایندھن اور کریانے کی خریداری میں محسوس کرتے ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے تو وال اسٹریٹ سے زیادہ بے چینی عام امریکی گھروں میں پیدا ہوتی ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور چین کے تعلقات بھی نئی عالمی سیاست کا مرکز بن چکے ہیں۔ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور چین سے متعلق ان کے سخت مؤقف نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا آنے والا امریکہ چین کے ساتھ مسابقت کی بنیاد پر اپنی پوری معاشی اور عسکری حکمت عملی ترتیب دے گا۔ چین اب صرف ایک تجارتی حریف نہیں بلکہ امریکی سیاسی گفتگو میں ایک ایسا نام بن چکا ہے جسے ٹیکنالوجی، معیشت، سلامتی اور عالمی قیادت کے ہر سوال سے جوڑا جاتا ہے۔ یورپ کے ساتھ تعلقات بھی مکمل طور پر پرسکون نہیں۔ یوکرین جنگ، دفاعی اخراجات اور نیٹو کے مستقبل پر اختلافات نے بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں کے درمیان خاموش تناؤ پیدا کیا ہے۔ یورپی قیادت کو خدشہ ہے کہ اگر امریکہ مزید اندرونی سیاست اور معاشی دباؤ میں الجھ گیا تو عالمی اتحاد کمزور پڑ سکتے ہیں۔ جبکہ امریکہ کے اندر ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ واشنگٹن دنیا بھر کے تنازعات پر بہت زیادہ پیسہ خرچ کرتا ہے جبکہ امریکی شہری خود بنیادی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ “امریکہ فرسٹ” جیسے نعرے اب صرف انتخابی مہمات کا حصہ نہیں رہے، بلکہ ایک وسیع سماجی نفسیات کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ آج کے امریکہ میں ایک اور واضح تبدیلی ثقافتی اور سماجی تقسیم کی ہے۔ یونیورسٹیوں، میڈیا، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مقامی سیاست تک، ہر جگہ شناخت، نسل، امیگریشن، مذہب اور آزادیِ اظہار پر شدید بحث جاری ہے۔ ایک طبقہ امریکہ کو زیادہ کثیرالثقافتی اور ترقی پسند سمت میں جاتا دیکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی روایتی شناخت، اقدار اور معاشی تحفظ تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ اسی تقسیم نے سیاسی ماحول کو غیر معمولی حد تک تلخ بنا دیا ہے۔ اب امریکہ میں اختلاف صرف پالیسیوں پر نہیں، بلکہ حقیقت کے تصور پر بھی ہونے لگا ہے۔ لوگ ایک ہی واقعے کو دو مکمل مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں، اور یہی چیز امریکی جمہوریت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ پھر بھی، اس تمام بے چینی کے باوجود، امریکہ مکمل مایوسی کی تصویر نہیں۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، توانائی، طب اور تحقیق کے میدان میں امریکہ اب بھی دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔ نوجوان نسل کے اندر سیاسی بیداری بڑھ رہی ہے۔ مقامی سطح پر کمیونٹی نیٹ ورکس، سماجی تحریکیں، اور شہری سرگرمیاں اب بھی امریکی معاشرے کو متحرک رکھے ہوئے ہیں۔ لاکھوں لوگ اب بھی اس یقین کے ساتھ صبح اٹھتے ہیں کہ یہ ملک اپنی غلطیوں کے باوجود خود کو دوبارہ سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شاید یہی امریکہ کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے: بحرانوں کے اندر زندہ رہنے کی صلاحیت۔ 2026 کا امریکہ ایک متضاد تصویر ہے۔ ایک ایسا ملک جو طاقتور بھی ہے اور تھکا ہوا بھی۔ امیر بھی ہے اور غیر محفوظ بھی۔ عالمی قیادت بھی چاہتا ہے اور اندرونی سکون بھی۔ اس کے ووٹر غصے میں بھی ہیں اور امید سے خالی بھی نہیں۔ اور شاید آنے والے انتخابات صرف یہ فیصلہ نہیں کریں گے کہ اگلا صدر کون ہوگا، بلکہ یہ بھی طے کریں گے کہ امریکہ اپنی اگلی دہائی کس سمت میں لے جانا چاہتا ہے: مزید عالمی مداخلت کی طرف، یا اپنے اندر جھانکنے کی طرف۔

تحریر آفاق فاروقی

قومی خبریں سے مزید