معروف فلم ساز جمشید محمود رضا عرف جامی کو کراچی کی عدالت نے ہتک عزت کے مقدمے میں دو سال قید بامشقت اور 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ عدم ادائیگی کی صورت میں مزید ایک ماہ قید کا حکم دیا گیا ہے۔ سزا کے فوراً بعد جامی کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا۔
مقدمہ جامی کی جانب سے 2019 میں فیس بک پر شائع کیے گئے ایک کھلے خط پر قائم کیا گیا تھا جس میں ایک معروف ہدایت کار پر ریپ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اگرچہ خط میں مدعی کا نام نہیں تھا مگر عدالت کے مطابق تفصیلات سے شناخت ممکن تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جامی الزام کی سچائی ثابت کرنے میں ناکام رہے ۔ اس لیے دفعہ 499 پی پی سی کے تحت سزا سنائی گئی۔ جامی نے مؤقف اپنایا کہ خط انہوں نے خود نہیں لکھا بلکہ لاہوتی میلہ کے دوران انہیں دیا گیا اور غلط فہمی پر پوسٹ ہٹادی گئی۔

سزا کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ سزا دراصل ’می ٹو‘ تحریک کو دبانے کی کوشش ہے۔
یاد رہے جامی نے 2019 میں ڈان میڈیا گروپ کے سی ای او حمید ہارون پر جنسی زیادتی کا الزام بھی لگایا تھا جسے حمید ہارون نے بے بنیاد قرار دیا تھا۔





