پاکستان نے ایران کو یقین دلایا کہ مکہ دفاعی معاہدہ تہران کے خلاف نہیں
پاکستان نے ایران کو یقین دلایا کہ مکہ دفاعی معاہدہ تہران کے خلاف نہیں
پاکستان نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ گزشتہ ہفتے ہونے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تہران کے خلاف نہیں اور اس کا مقصد کسی ملک کو نشانہ بنانا نہیں ہے
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کو بتایا کہ یہ معاہدہ کسی محاذ آرائی کا ذریعہ نہیں ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی وفاقی کابینہ کو واضح کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے میں کسی ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ ایران کے پاس یہ یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ معاہدہ اسے گھیرنے کے لیے کیا گیا ہے
معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا جس کی وجہ سے اس کے ممکنہ فوجی اطلاق کے بارے میں قیاس آرائیاں سامنے آئی تھیں
تجزیے کے مطابق خطے میں ایک نئے سکیورٹی نظام کی ضرورت ہے جس میں عرب ممالک، ایران اور دیگر علاقائی ریاستیں شامل ہوں تاکہ اپنی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کیا جاسکے
ترکیہ کے صدر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مکہ دفاعی معاہدہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے
ایران کو اس نظام میں شامل کرنا خطے کے سکیورٹی منظرنامے میں بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے تاہم اس کے لیے سعودی عرب سمیت عرب ممالک اور ایران کے درمیان موجود بداعتمادی کو کم کرنا ہوگا
پاکستان اور ترکیہ دونوں ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں اور اس لیے وہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے میں پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ خلیج اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے خود ایک نیا علاقائی سکیورٹی نظام تشکیل دینا چاہیے


