ممدانی کے خلاف امیروں کی پہلی عارضی فتح، پائیڈ آتیر ٹیکس کے خلاف عدالت نے عبوری حکم سنا دیا
ممدانی کے خلاف امیروں کی پہلی عارضی فتح، پائیڈ آتیر ٹیکس کے خلاف عدالت نے عبوری حکم سنا دیا
نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے ’پائیڈ آ تیر‘ ٹیکس کو اس وقت بڑا قانونی دھچکا لگا جب اسٹیٹن آئی لینڈ کے ایک جج نے پیر کے روز اس ٹیکس کے نفاذ کو عارضی طور پر روکنے کا حکم دے دیا
یہ حکم جمعہ کے روز تین متاثرہ مکان مالکان کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کے بعد سامنے آیا،درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹیکس کے نفاذ کا موجودہ طریقہ کار قانونی اور انتظامی اعتبار سے قابلِ اعتراض ہے، اس لیے اس پر عمل درآمد مؤخر کیا جائے
اسٹیٹن آئی لینڈ کے ریاستی جج وین اوزی نے ہنگامی عارضی حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ گزشتہ ماہ ’پائیڈ آ تیر‘ ٹیکس کے نفاذ کے سلسلے میں جاری کی گئی 960,000 جائیدادوں کی ٹیکس فہرست سے متعلق کارروائی روک دی جائے
عدالت نے شہر کو یہ بھی حکم دیا کہ ان 17,000 مکان مالکان کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہ کی جائے جنہیں پہلے ہی نئے ٹیکس سے متعلق انتباہی نوٹس بھیجے جا چکے ہیں
یہ مقدمہ ممدانی انتظامیہ کے لیے ایک اہم قانونی رکاوٹ بن گیا ہے، کیونکہ نیا ٹیکس نیویارک شہر میں ان اضافی رہائشی جائیدادوں پر مالی بوجھ عائد کرنے کی کوشش کا حصہ ہے جنہیں مالکان اپنی مستقل رہائش کے بجائے دوسرے گھر یا محدود مدت کے قیام کے لیے استعمال کرتے ہیں
عدالت کا موجودہ حکم عارضی نوعیت کا ہے، اس لیے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیکس مستقل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم، جب تک عدالت اس معاملے پر مزید فیصلہ نہیں کرتی، شہر کے لیے اس ٹیکس کے نفاذ کی رفتار برقرار رکھنا مشکل ہوگا


