آزاد کشمیر کے تیسرے مرحلے کے ادھُورے انتخابات، عالمی برادری کی بے بسی، غزہ کے بعد اب طاقت ہی قانون بھی انصاف بھی اور امن کی ضمانت بھی
آزاد کشمیر کے تیسرے مرحلے کے ادھُورے انتخابات، عالمی برادری کی بے بسی، غزہ کے بعد اب طاقت ہی قانون بھی انصاف بھی اور امن کی ضمانت بھی آزاد کشمیر میں تیسرے مرحلے کے انتخابات کے حوالے سے صورتحال ایک ایسے سیاسی بحران میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے ،جہاں انتخابی عمل سے زیادہ سوال اس بات پر اٹھ رہے ہیں کہ آیا کئی علاقوں میں عوام کو آزادانہ طور پر ووٹ ڈالنے کا موقع بھی ملا یا نہیں،پونچھ ڈویژن کی 11 اسمبلی نشستوں میں سے 4 نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں، جن میں حویلی کی ایک اور باغ کی 3 نشستیں شامل ہیں، تاہم ان انتخابات کے نتائج، ووٹر ٹرن آؤٹ اور مجموعی صورتحال کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیںذرائع کے مطابق ان 4 نشستوں میں سے ایک کا نتیجہ واضح طور پر سامنے آ چکا ہے اور مسلم کانفرنس کے سربراہ، سابق صدر اور سابق وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان کے صاحبزادے اور خود بھی سابق وزیر اعظم رہنے والے سردار عتیق احمد خان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ شکست معمولی فرق سے نہیں بلکہ خاصے بڑے فرق سے ہوئی ہے۔ تاہم باغ کی دیگر 3 نشستوں کے نتائج تاحال سامنے نہیں آئےانتخابات کے اس مرحلے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں پولنگ ہوئی، وہاں ووٹر ٹرن آؤٹ کے بارے میں بھی کوئی ایک قابل اعتماد تصویر سامنے نہیں آ رہی،بعض مقامی اطلاعات میں پولنگ تقریباً 10 فیصد بتائی جا رہی ہے، بعض ذرائع 30 فیصد اور بعض 40 فیصد تک ووٹنگ ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں، جبکہ کچھ پولنگ اسٹیشنوں کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ تقریباً خالی رہےاس تضاد کی ایک بڑی وجہ آزاد کشمیر میں جاری مواصلاتی بندش کو قرار دیا جا رہا ہے،ذرائع کے مطابق ان علاقوں میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس تقریباً مکمل طور پر بند ہے، جس کے باعث نہ صرف عام شہری ایک دوسرے سے رابطہ نہیں کر پا رہے بلکہ انتخابی صورتحال کے بارے میں آزادانہ معلومات کا حصول بھی انتہائی مشکل ہو گیا ہے،نتیجتاً سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر افواہوں، قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ اطلاعات کا ایک ایسا سلسلہ چل رہا ہے جس نے صورتحال کو مزید مبہم بنا دیا ہےپونچھ ڈویژن کے چار اضلاع، راولاکوٹ، باغ، حویلی اور پلندری، اس وقت سیاسی طور پر انتہائی حساس صورتحال سے گزر رہے ہیں،راولاکوٹ میں احتجاجی دھرنے جاری ہیں جبکہ پلندری سمیت مختلف علاقوں میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں اور ہلاکتوں کی اطلاعات پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں،مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے بارے میں یہ بھی دعوے کیے جا رہے ہیں کہ وہ لاپتا ہیں،تاہم ان دعوؤں کی حتمی تعداد اس وقت سامنے نہیں آ سکتی کیونکہ مواصلاتی نظام کی بندش نے آزادانہ تصدیق تقریباً ناممکن بنا دی ہےمقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب احتجاجی دھرنے اور لانگ مارچ کے نام پر جاری احتجاجی جلوس ختم ہوں گے اور معمول کی صورتحال بحال ہو گی تو اس وقت زیادہ واضح انداز میں معلوم ہو سکے گا کہ ان ہنگامہ خیز دنوں میں کتنے افراد ہلاک، زخمی یا لاپتا ہوئےسب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ پونچھ ڈویژن کی باقی 7 نشستوں کے انتخابات کے حوالے سے بھی واضح صورت حال موجود نہیں،کہیں 20 اگست کی تاریخ بتائی جا رہی ہے، کہیں دوسری تاریخوں کا ذکر ہو رہا ہے،موجودہ شورش، احتجاج اور انتظامی بحران کے درمیان یہ سوال بھی اہم ہو گیا ہے کہ آیا باقی نشستوں پر انتخابات مقررہ وقت پر ہو سکیں گے یا پورا انتخابی شیڈول ایک مرتبہ پھر تبدیل کرنا پڑے گاآزاد کشمیر کی سیاست میں برادریوں کا اثر ہمیشہ سے فیصلہ کن رہا ہے اور پونچھ کا خطہ اس حوالے سے خاص طور پر حساس سمجھا جاتا ہے،مقامی سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی موجود ہے کہ کئی حلقوں میں سیاسی مقابلے کے ساتھ برادریوں کے درمیان طاقت کا مقابلہ بھی انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈال رہا ہے،لیکن موجودہ حالات میں برادری، جماعت اور امیدوار کی طاقت سے زیادہ بڑا سوال خود انتخابی ماحول کی آزادی اور شفافیت کا بن چکا ہےدوسری طرف سیاسی حلقوں میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ نون حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ رہی ہے اور ممکن ہے کہ اسے دو تہائی اکثریت بھی حاصل ہو جائے،لیکن اس دعوے پر بھی سخت تنقید سامنے آ رہی ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ جس خطے کے کئی حصوں میں احتجاج، ہلاکتیں، مواصلاتی بندش اور انتخابی عمل کے بارے میں شدید ابہام موجود ہو، وہاں حکومت سازی کے اعداد و شمار پر حتمی سیاسی فیصلے دینا قبل از وقت ہی نہیں جمہوری رویوں دعوں پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہوں وہاں کسی جمہوریت کی دعویدار پارٹی کا ان حالات میں کسی سیاسی فتح کا دعویٰ شرمناک ہی قرار پائے گا بعض ناقدین اس صورتحال کو اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ میں بیان کر رہے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں انتخابی عمل کے بارے میں جو کچھ سامنے آ رہا ہے، وہ اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انتخابی آزادی کے حوالے سے بھارت پر تنقید کرنے والوں کو پہلے اپنے زیر انتظام خطے کی صورتحال بھی دیکھنی چاہیے،ان کے مطابق اگر ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں انتخابی آزادی کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور دوسری طرف آزاد کشمیر میں عوام کے ایک بڑے حصے کو احتجاج، تشدد، مواصلاتی بندش اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہو تو یہ پورے خطے کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ سیاسی اور اخلاقی سوال ہےلیکن آزاد کشمیر کا موجودہ بحران صرف ایک انتخابی تنازع نہیں،اس کے پیچھے ایک زیادہ بڑا عالمی سوال بھی موجود ہے کہ کیا دنیا میں طاقتور ریاستوں کے لیے قانون اور کمزور معاشروں کے لیے کوئی اور قانون رہ گیا ہے؟غزہ کی جنگ نے اس سوال کو مزید سنگین بنا دیا ہے،گزشتہ عرصے کے دوران غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، جن میں ہزاروں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں،اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی عدالت سمیت اداروں کی جانب سے شدید تشویش اور مذمت کے باوجود جنگ اور انسانی تباہی کا سلسلہ مکمل طور پر رک نہیں سکا،عالمی عدالت انصاف سمیت بین الاقوامی اداروں کی کارروائیوں کے باوجود اسرائیل کو اس حد تک روکنے میں کامیابی نہیں ہوئی جس کی توقع دنیا کے بہت سے حلقے کر رہے تھےاسی پس منظر میں بعض تجزیہ نگار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر دنیا ایک طاقتور ریاست کو روکنے میں ناکام ہو جائے تو پھر کمزور ریاستوں میں طاقت کے استعمال کے خلاف اخلاقی اور سیاسی دباؤ کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے؟ان کے نزدیک غزہ نے دنیا کے سامنے ایک خطرناک حقیقت واضح کی ہے کہ عالمی نظام میں طاقت اب بھی قانون سے زیادہ فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے،اگر طاقتور فریق بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اپنے اقدامات جاری رکھ سکتا ہے تو پھر پاکستان جیسے کمزور اور ترقی پذیر ممالک میں ریاستی طاقت کے استعمال پر عالمی ردعمل کتنا مؤثر رہ جاتا ہے؟یہی سوال سوڈان، صومالیہ اور دنیا کے دوسرے بحران زدہ خطوں کے حوالے سے بھی اٹھتا ہے، جہاں انسانی جانوں کا بڑے پیمانے پر زیاں جاری رہنے کے باوجود عالمی توجہ اکثر محدود اور عارضی ثابت ہوتی ہےاس تناظر میں آزاد کشمیر کا بحران ایک انتہائی تلخ سوال سامنے لاتا ہے،اگر دنیا میں طاقتور کے سامنے عالمی ادارے بے بس دکھائی دیں، تو کیا غریب اور کمزور معاشروں کے شہری یہ سمجھنے پر مجبور ہو جائیں کہ ان کی جان کی قیمت بھی کم ہے؟یہ سوال صرف آزاد کشمیر کے انتخابات کا نہیں بلکہ اس عالمی نظام کا ہے جس میں طاقتور ریاست، طاقتور گروہ، سیاسی اشرافیہ اور بااثر مافیاز اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے طاقت استعمال کر سکتے ہیں، جبکہ عام شہری کو احتجاج، تشدد، گرفتاری، مواصلاتی بندش یا حتیٰ کہ جان کے نقصان کی صورت میں بھی آخرکار اپنی ہی گردن جھکانا پڑتی ہےآزاد کشمیر میں اس وقت اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ کون سی جماعت کتنی نشستیں حاصل کرتی ہے،اصل امتحان یہ ہے کہ احتجاج، ہلاکتوں، مواصلاتی بندش، متنازع ٹرن آؤٹ اور غیر واضح انتخابی شیڈول کے درمیان عوام کے حق رائے دہی کا تحفظ کس طرح کیا جاتا ہےسردار عتیق احمد خان کی شکست ایک سیاسی خبر ضرور ہے، لیکن پونچھ ڈویژن کے موجودہ حالات میں یہ شاید سب سے بڑی خبر نہیں،اصل خبر یہ ہے کہ 11 نشستوں والے اس خطے میں 4 نشستوں پر ہونے والی پولنگ بھی شدید سوالات کے گھیرے میں ہے، باقی 7 نشستوں کے مستقبل پر ابہام ہے، مواصلاتی رابطے منقطع ہیں، احتجاج جاری ہے اور ہلاکتوں و گمشدگیوں کے دعووں کی مکمل تصدیق ممکن نہیں۔اور جب تک یہ سب سوالات جواب طلب رہیں گے، آزاد کشمیر کے انتخابات کا اصل نتیجہ صرف اسمبلی کی نشستوں کے اعداد و شمار سے نہیں بلکہ اس سوال سے طے ہو گا کہ اس بحران کے اختتام پر عوام کو اپنی آواز، اپنے ووٹ اور اپنی جان کی کتنی قیمت واپس ملتی ہے


