حادثے کے بعد گاڑی کی انشورنس ادائیگی سے انکار کر سکتی ہے، امریکی ڈرائیوروں کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
حادثے کے بعد گاڑی کی انشورنس ادائیگی سے انکار کر سکتی ہے، امریکی ڈرائیوروں کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
امریکا میں گاڑی چلانے کے لیے انشورنس رکھنا قانوناً ضروری ہے، لیکن ایک سنگین حادثے کی صورت میں بہت سے امریکی ڈرائیوروں کو اس وقت بڑا مالی دھچکا لگ سکتا ہے جب انہیں معلوم ہو کہ ان کی انشورنس پالیسی نقصان کی پوری رقم ادا کرنے کے لیے کافی نہیں
گاڑیوں کے حادثات کے بعد مرمت، طبی اخراجات، دوسری گاڑی کو پہنچنے والے نقصان اور بعض صورتوں میں قانونی اخراجات ہزاروں بلکہ دسیوں ہزار ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں،تاہم، ہر ڈرائیور کی انشورنس پالیسی اتنی مالی تحفظ فراہم نہیں کرتی کہ حادثے کے بعد تمام اخراجات باآسانی پورے ہو سکیں
مسئلہ اس وقت زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور خود مناسب انشورنس کے بغیر ہو، یا اس کی پالیسی میں موجود حد نقصان کی اصل مالیت سے کم ہو،ایسی صورت میں متاثرہ شخص کے پاس اپنے نقصان کی مکمل تلافی حاصل کرنے کے محدود راستے رہ جاتے ہیں
امریکی قوانین کے تحت بیشتر ریاستوں میں ڈرائیوروں کے لیے کم از کم ایک مخصوص سطح کی انشورنس لازمی ہے،لیکن قانونی طور پر مطلوب کم از کم کوریج اور حقیقی حادثے کے مالی نقصان کے درمیان بڑا فرق ہو سکتا ہے،مثال کے طور پر اگر کسی حادثے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچے، متعدد افراد زخمی ہوں اور طبی اخراجات بھی شامل ہو جائیں تو قانونی کم از کم انشورنس حد چند ہی گھنٹوں میں ناکافی ثابت ہو سکتی ہے
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے گاڑی مالکان یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اپنی گاڑی کو پہنچنے والا ہر نقصان بھی لازماً انشورنس کمپنی ادا کرے گی،حقیقت میں یہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ پالیسی میں تصادم، جامع کوریج، غیر بیمہ شدہ یا کم بیمہ شدہ ڈرائیور اور دیگر تحفظات کس حد تک شامل ہیں
خاص طور پر نئی یا قرض پر خریدی گئی گاڑیوں کے مالکان کے لیے خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،اگر گاڑی حادثے میں مکمل طور پر تباہ ہو جائے تو انشورنس کمپنی عموماً گاڑی کی موجودہ مارکیٹ مالیت کے حساب سے ادائیگی کرتی ہے، جبکہ گاڑی پر باقی قرض اس رقم سے زیادہ ہو سکتا ہے،اس صورت میں مالک کو انشورنس کی رقم اور قرض کی باقی رقم کے درمیان فرق اپنی جیب سے ادا کرنا پڑ سکتا ہے، جب تک اس نے اضافی مالی تحفظ حاصل نہ کر رکھا ہو
مہنگائی اور گاڑیوں کی مرمت کی بڑھتی ہوئی لاگت نے بھی مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے،جدید گاڑیوں میں مہنگے برقی نظام، کیمرے، سینسر اور دیگر ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے، جس کی وجہ سے معمولی نظر آنے والے حادثے کی مرمت بھی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہو سکتی ہے
اسی طرح طبی اخراجات میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ معمولی حادثہ بھی بعض اوقات انشورنس کی مقررہ حد کو عبور کر سکتا ہے،اگر نقصان انشورنس کی حد سے زیادہ ہو جائے تو اضافی رقم کی ذمہ داری حادثے کے ذمہ دار شخص پر آ سکتی ہے
ماہرین کے مطابق صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ گاڑی کی انشورنس موجود ہے یا نہیں،اصل سوال یہ ہے کہ پالیسی حادثے کی صورت میں کتنی رقم تک تحفظ فراہم کرتی ہے اور کن حالات میں ادائیگی کرے گی
امریکی ڈرائیوروں کے لیے یہ صورتحال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قانونی طور پر مطلوب کم سے کم انشورنس اور حقیقی مالی تحفظ ایک ہی چیز نہیں،حادثے کے بعد مالی تباہی سے بچنے کے لیے پالیسی کی حدود، گاڑی کی موجودہ قیمت، قرض کی باقی رقم اور غیر بیمہ شدہ یا کم بیمہ شدہ ڈرائیور سے متعلق تحفظ کو سمجھنا انتہائی اہم ہو گیا ہے
یعنی سڑک پر انشورنس کارڈ کا موجود ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ حادثے کے بعد تمام نقصان کی ادائیگی ہو جائے گی،اصل تحفظ اس وقت سامنے آتا ہے جب ڈرائیور کی پالیسی کی کوریج اس نقصان کے حجم کے لیے کافی ہو جس کا اسے حادثے کی صورت میں سامنا کرنا پڑ سکتا ہے


