مکہ دفاعی معاہدہ: مسلم دنیا میں اتحاد یا نئی تقسیم؟
مکہ دفاعی معاہدہ: مسلم دنیا میں اتحاد یا نئی تقسیم؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط ایک اہم اور علامتی پیش رفت قرار دیے جا رہے ہیں۔ معاہدے کے تحت ایک رکن پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے اور خلیجی ممالک بھی اس کشیدگی سے متاثر ہو رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے معاہدے کو تاریخی قرار دیا، جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ یہ معاہدہ دوست ممالک کے لیے بھی کھلا ہے۔ تاہم ڈان کے اداریے کے مطابق اسے ’’اسلامی نیٹو‘‘ قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس نوعیت کے علاقائی اتحاد پہلے بھی قائم کیے جا چکے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے، جبکہ نئے معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت اسے مزید اہم بنا دیتی ہے۔ تاہم سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں اس معاہدے کا کردار کیا ہوگا؟ سعودی نائب وزیر نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی فوجی محور یا فرقہ وارانہ اتحاد کے قیام کی کوشش نہیں۔
اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے اور ایران خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھتا ہے تو نیا دفاعی اتحاد ایک بڑے امتحان سے گزرے گا۔
ایسے دفاعی معاہدوں کا مقصد مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا ہونا چاہیے، کسی مسلم ملک کے خلاف محاذ بنانا نہیں۔ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے باہمی عدم جارحیت اور علاقائی تعاون کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک پر حملے بند کرے، جبکہ خلیجی ریاستوں کو بھی اپنی سرزمین کسی بیرونی طاقت کو ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روکنا چاہیے۔ عرب ممالک اور ایران ایک ہی خطے میں رہتے ہیں اور جغرافیہ تبدیل نہیں کرسکتے، اس لیے باہمی سلامتی کے لیے قابلِ عمل سمجھوتہ ہی طویل مدتی حل ہوسکتا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ اگر صرف فوجی اتحاد تک محدود رہنے کے بجائے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، باہمی سلامتی اور کشیدگی میں کمی کا ذریعہ بنتا ہے تو یہ پورے خطے کے لیے مثبت پیش رفت ہوسکتا ہے۔ تاہم اگر اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف صف بندی کے طور پر استعمال کیا گیا تو اس سے پہلے سے موجود علاقائی اختلافات مزید گہرے ہونے کا خدشہ ہے۔


