ہلیری کلنٹن نے بائیں بازو کی سخت گیر سیاست پر تنقید کردی، خبردار کیا کہ ری پبلکن جماعت کے کمیونسٹ الزامات مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں
ہلیری کلنٹن نے بائیں بازو کی سخت گیر سیاست پر تنقید کردی، خبردار کیا کہ ری پبلکن جماعت کے کمیونسٹ الزامات مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں
سابق امریکی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بائیں بازو کے سخت گیر دھڑے اور پارٹی کی روایتی قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر کھل کر تشویش ظاہر کی ہے،ان کا کہنا ہے کہ سخت گیر بائیں بازو کے حلقے روایتی ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت کے لیے آسانی سے متحد نہیں ہوتے، جبکہ ری پبلکن جماعت اگر سخت گیر سوشلسٹ سیاست دانوں کو کمیونسٹ قرار دے کر انتخابی مہم چلائے تو یہ حملہ خاصا مؤثر ثابت ہوسکتا ہے، فاکس نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے
کلنٹن نے جمعہ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بائیں بازو کے بعض حلقے پارٹی کے روایتی امیدواروں کی حمایت کرنے کے بجائے اپنی الگ سیاسی ترجیحات پر قائم رہتے ہیں،ان کے مطابق یہ صورتحال پارٹی کے اندر پہلے سے موجود نظریاتی تقسیم کو مزید نمایاں کررہی ہے
یہ اختلاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سیاست میں سوشلزم اور کمیونزم کے الفاظ دوبارہ انتخابی بحث کا حصہ بن رہے ہیں،ڈیموکریٹک پارٹی کی نوجوان نسل میں بعض ترقی پسند سیاست دان معاشی عدم مساوات، دولت کی تقسیم، صحت عامہ اور رہائش جیسے مسائل پر زیادہ بائیں بازو کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں،دوسری طرف پارٹی کی روایتی قیادت ایسے مؤقف سے محتاط ہے جسے ری پبلکن امیدوار آسانی سے انتہا پسندانہ سیاست کے طور پر پیش کرسکتے ہیں
کلنٹن نے خاص طور پر خبردار کیا کہ ری پبلکن جماعت کے لیے سخت گیر سوشلسٹ سیاست دانوں کو کمیونسٹ نظریات سے جوڑنا ایک مؤثر انتخابی ہتھیار ثابت ہوسکتا ہے،ان کے مطابق اگر ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بائیں بازو کا دھڑا مزید نمایاں ہوتا ہے تو ری پبلکن امیدوار اسے پورے ڈیموکریٹک پارٹی کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کریں گے
یہ بحث اس لیے بھی اہم ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر نئی نسل اور روایتی قیادت کے درمیان سیاسی فاصلے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں،نوجوان ووٹر معاشی مسائل پر زیادہ ترقی پسند پالیسیوں کی حمایت کررہے ہیں، جبکہ پارٹی کے روایتی رہنما انتخابی اعتبار سے زیادہ قابل قبول سیاسی مرکز برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں
حالیہ برسوں میں حسن پائیکر جیسے بائیں بازو کے مقبول سیاسی تبصرہ نگار بھی نوجوانوں میں اثر و رسوخ حاصل کرچکے ہیں،ان کے حلقے ڈیموکریٹک پارٹی سے زیادہ واضح نظریاتی وابستگی کا مطالبہ کرتے ہیں، جبکہ کلنٹن جیسے روایتی رہنما اس رجحان کو پارٹی کے اندر اتحاد کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھتے ہیں
اصل مسئلہ اب یہ بنتا جارہا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی نوجوان نسل کی بائیں بازو کی طرف بڑھتی ہوئی سیاسی دلچسپی اور قومی انتخابات میں وسیع تر امریکی ووٹر کے لیے قابل قبول سیاسی مرکز کے درمیان توازن کیسے قائم کرے گی
کلنٹن کا انتباہ اسی بنیادی خطرے کی طرف اشارہ کرتا ہے،اگر ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر سخت گیر سوشلسٹ سیاست نمایاں ہوتی ہے اور پارٹی اسے واضح طور پر مسترد نہیں کرتی تو ری پبلکن جماعت اسے انتخابی مہم میں استعمال کرسکتی ہے،دوسری طرف اگر ڈیموکریٹک قیادت بائیں بازو کے نوجوان ووٹروں سے بہت زیادہ فاصلے پر چلی جاتی ہے تو وہ اپنی ہی نئی نسل کے ووٹروں کو بددل کرسکتی ہے
یوں امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے آنے والے انتخابات میں اصل چیلنج صرف ری پبلکن جماعت کا مقابلہ کرنا نہیں ہوگا، بلکہ اپنی ہی پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے نظریاتی اختلاف کو اس حد تک قابو میں رکھنا ہوگا کہ نوجوان ترقی پسند ووٹر بھی ساتھ رہیں اور مخالف جماعت کو انہیں پوری پارٹی کے خلاف سیاسی ہتھیار بنانے کا موقع بھی نہ ملے


