کینیڈا کی جامعات میں یہود مخالف رویوں میں اضافہ، طلبہ نے اپنے تجربات بیان کر دیے
کینیڈا کی جامعات میں یہود مخالف رویوں میں اضافہ، طلبہ نے اپنے تجربات بیان کر دیے
کینیڈا کی مختلف جامعات میں یہودی طلبہ نے یہود مخالف رویوں، ہراسانی اور خوف کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حالیہ مطالعات اور طلبہ کے انٹرویوز میں سامنے آیا ہے کہ کئی یہودی طلبہ خود کو جامعات میں پہلے کی نسبت کم محفوظ اور کم قبول شدہ محسوس کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے تنازع سے متعلق کیمپس میں ہونے والے احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں نے کئی یہودی طلبہ کے لیے تعلیمی ماحول کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ بعض طلبہ نے بتایا کہ انہیں کلاس رومز، طلبہ تنظیموں اور کیمپس کی روزمرہ زندگی میں مخالفانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔
کچھ طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ کھلے عام اپنی یہودی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ بعض نے کیمپس میں تنہا چلنے یا یہودی علامتیں پہننے کے حوالے سے بھی خوف کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس میں ٹورنٹو، مونٹریال، کیلگری اور دیگر شہروں کی جامعات کے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں یہودی طلبہ نے احتجاجی سرگرمیوں، زبانی حملوں، دھمکیوں اور بعض مواقع پر جسمانی تصادم کے واقعات بیان کیے۔
ایک حالیہ حکومتی مطالعے سے متعلق رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے کہ تقریباً 96 فیصد یہودی طلبہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران کم از کم ایک یہود مخالف واقعہ دیکھنے یا اس کا سامنا کرنے کی اطلاع دی۔ تقریباً 84 فیصد نے اسے کیمپس میں ایک سنگین مسئلہ قرار دیا، جبکہ بڑی تعداد نے جامعات کے ردعمل پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔
دوسری جانب جامعات کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ یہود مخالف نفرت اور ہراسانی کو سنجیدگی سے لیتی ہیں اور طلبہ کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم متاثرہ طلبہ کا کہنا ہے کہ صرف پالیسیوں کا اعلان کافی نہیں، بلکہ شکایات پر فوری اور مؤثر کارروائی بھی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق جامعات کے لیے چیلنج یہ ہے کہ آزادیِ اظہار اور احتجاج کے حق کا تحفظ کرتے ہوئے کسی بھی مذہبی یا نسلی گروہ کے خلاف نفرت، دھمکی اور ہراسانی کی اجازت نہ دی جائے



