پولیس اہلکاروں کی قربانیاں، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی پر نظرِثانی کی ضرورت
پولیس اہلکاروں کی قربانیاں، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی پر نظرِثانی کی ضرورت
پاکستان میں پولیس اہلکار دہشت گردی اور جرائم کے خلاف جنگ میں مسلسل جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، تاہم سابق پولیس سربراہان کے مطابق موجودہ حالات میں پولیس کے تحفظ، تربیت، خفیہ معلومات کے تبادلے اور وسائل میں فوری بہتری کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۶ء کے پہلے سات ماہ کے دوران دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں سے منسلک واقعات میں ۲ ہزار ۷۸۶ افراد ہلاک ہوئے، جن میں ۴۳۴ سکیورٹی اہلکار شامل تھے۔ خیبر پختونخوا میں ۱۵۲ اور بلوچستان میں ۸۹ پولیس اہلکار بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
جولائی ۲۰۲۶ء سکیورٹی اہلکاروں کے لیے سال کا سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا، جس میں ۱۱۲ اہلکار شہید ہوئے، جبکہ جون میں یہ تعداد ۳۸ تھی۔ اس طرح قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ہلاکتوں میں ایک ماہ کے دوران ۱۹۵ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سابق پولیس سربراہان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ دو برس پولیس کے لیے انتہائی مشکل رہے ہیں اور اس عرصے کے دوران ۳۱۴ پولیس اہلکار جان کی قربانی دے چکے ہیں۔
بلوچستان میں بھی پولیس کو علیحدگی پسند گروہوں اور دیگر دہشت گرد عناصر کی جانب سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق صوبے میں پولیس کی ذمہ داریاں بڑھنے کے باوجود افرادی قوت، بنیادی ڈھانچے، تربیت اور دیگر وسائل میں مطلوبہ اضافہ نہیں کیا گیا۔
سابق پولیس افسران نے پولیس اور خفیہ اداروں کے درمیان معلومات کے بروقت تبادلے، حساس پولیس چوکیوں اور تھانوں کی سکیورٹی بہتر بنانے، جدید مواصلاتی نظام فراہم کرنے اور اہلکاروں کو جدید انسدادِ دہشت گردی کی تربیت دینے پر زور دیا ہے۔
ان کے مطابق مقامی آبادی کے ساتھ پولیس کے روابط مضبوط کرنا بھی ضروری ہے تاکہ مشتبہ سرگرمیوں کے بارے میں بروقت معلومات حاصل کی جاسکیں۔
حکومت اور سیاسی قیادت پر زور دیا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو صرف خراجِ تحسین تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ افرادی قوت، تربیت، جدید آلات، خفیہ معلومات، نقل و حرکت اور اہلکاروں کی فلاح و بہبود میں عملی سرمایہ کاری کی جائے۔



