ٹیکس سے پاک ملک بنانے کا حیران کن منصوبہ، سمندر میں بنائی گئی مصنوعی ریاست چند ماہ بعد ختم ہوگئی
ٹیکس سے پاک ملک بنانے کا حیران کن منصوبہ، سمندر میں بنائی گئی مصنوعی ریاست چند ماہ بعد ختم ہوگئی
1972ء میں ایک امریکی کروڑ پتی نے ایک ایسا ملک بنانے کا منصوبہ بنایا جہاں نہ ٹیکس ہوں، نہ حکومتی پابندیاں اور نہ ہی ریاستی مداخلت۔ اس مقصد کے لیے بحرالکاہل میں موجود منیوا ریف پر مصنوعی زمین تیار کرکے ایک نئی ریاست قائم کرنے کی کوشش کی گئی، جس کا نام جمہوریہ منیوا رکھا گیا۔
یہ منصوبہ امریکی کروڑ پتی مائیکل اولیور کی سربراہی میں شروع ہوا۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر ایک ایسی آزاد ریاست قائم کرنے کا خواب دیکھا جہاں روایتی حکومت، ٹیکس اور فلاحی نظام موجود نہ ہو۔ منیوا ریف کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ انتہائی کم سطح پر واقع مرجانی چٹانوں کا علاقہ تھا اور اس وقت اس کی ملکیت واضح نہیں تھی۔
منصوبے کے تحت آسٹریلیا سے بڑی مقدار میں ریت اور تعمیراتی سامان کشتیوں کے ذریعے لایا گیا اور سمندر کے اندر موجود ریف پر ڈال کر مصنوعی زمین بنانے کی کوشش کی گئی۔ وہاں ایک پلیٹ فارم تعمیر کیا گیا، جھنڈا لہرایا گیا اور 19 جنوری 1972ء کو جمہوریہ منیوا کے قیام کا اعلان کردیا گیا۔ نئی ریاست نے اپنی کرنسی بھی جاری کی اور ایک صدر منتخب کیا۔
لیکن نئی ریاست کے قیام کا اعلان ہوتے ہی ایک بڑی رکاوٹ سامنے آگئی۔ قریبی ریاست ٹونگا نے منیوا ریف پر اپنا حق جتاتے ہوئے اس اقدام کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ ٹونگا نے جون 1972ء میں وہاں اپنی موجودگی قائم کی، منیوا کا جھنڈا اتارا اور علاقے پر اپنی عمل داری کا اعلان کردیا۔
نتیجتاً یہ خود ساختہ ریاست عالمی سطح پر کسی بھی ملک سے تسلیم نہ ہوسکی اور اس کا منصوبہ چند ہی ماہ میں دم توڑ گیا۔ بعد میں سمندر کی لہروں اور قدرتی حالات نے مصنوعی طور پر بنائی گئی زمین کو بھی بتدریج ختم کردیا، یہاں تک کہ منیوا کا بیشتر حصہ دوبارہ سمندر میں غائب ہوگیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1982ء میں دوبارہ امریکیوں کے ایک گروپ نے منیوا ریف پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، لیکن ٹونگا کی افواج نے انہیں بھی وہاں سے نکال دیا۔
جمہوریہ منیوا کا مختصر تجربہ آج بھی اس سوال کی ایک غیر معمولی مثال سمجھا جاتا ہے کہ کیا کوئی شخص محض مصنوعی زمین بنا کر اپنی آزاد ریاست قائم کرسکتا ہے؟ منیوا کے واقعے نے واضح کیا کہ نئی ریاست بنانے کے لیے صرف زمین، جھنڈا اور کرنسی کافی نہیں؛ علاقائی ملکیت، بین الاقوامی قانون اور دوسرے ممالک کی منظوری بھی انتہائی اہم ہوتی ہے۔


