ایک اور ریپبلکن سینیٹر نے ٹوڈ بلانش کی مخالفت کر دی، اٹارنی جنرل کی توثیق غیر یقینی
ایک اور ریپبلکن سینیٹر نے ٹوڈ بلانش کی مخالفت کر دی، اٹارنی جنرل کی توثیق غیر یقینی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش کی سینیٹ سے منظوری مزید غیر یقینی ہو گئی ہے، کیونکہ ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکاؤسکی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ان کی نامزدگی کے حق میں ووٹ نہیں دیں گی۔
الاسکا سے تعلق رکھنے والی سینیٹر لیزا مرکاؤسکی نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ اگرچہ ان کی ٹوڈ بلانش سے تعمیری ملاقاتیں ہوئیں، لیکن انہیں محکمۂ انصاف کی بڑھتی ہوئی سیاسی وابستگی پر شدید تحفظات ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ دور میں محکمۂ انصاف کی غیر جانبداری متاثر ہوئی، جبکہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات جاری کرنے کے معاملے میں بھی بلانش کا طرزِ عمل اطمینان بخش نہیں تھا۔
مرکاؤسکی اس سے قبل سینیٹر سوسن کولنز کے بعد دوسری ریپبلکن رکن بن گئی ہیں جنہوں نے بلانش کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد سینیٹ میں ان کی توثیق انتہائی سخت مقابلے میں داخل ہو گئی ہے، اور اب چند ووٹ بھی نتیجہ بدل سکتے ہیں۔
یہ معاملہ صرف ایک تقرری تک محدود نہیں، بلکہ اس وسیع بحث کا حصہ بن گیا ہے کہ آیا امریکی محکمۂ انصاف سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد رہ سکتا ہے یا نہیں۔ اپوزیشن ڈیموکریٹس پہلے ہی ٹرمپ انتظامیہ پر وفاقی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ ریپبلکن قیادت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
ٹوڈ بلانش کی نامزدگی پر ہونے والی ووٹنگ اب امریکی سینیٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان تصور کی جا رہی ہے


